خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 115 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 115

خطبات ناصر جلد ششم ۱۱۵ خطبه جمعه ۱/۴ پریل ۱۹۷۵ء جان سکتا تھا اور فضل الہی سے فیضان الہی سب سے زیادہ تیرے پر ہوا یعنی تو معارف الہیہ اور اسرار اور علوم ربانی میں سب سے بڑھ گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنی معرفت کے عطر کے ساتھ سب سے زیادہ تجھے معطر کیا۔غرض علم اور معرفت کو خدا تعالیٰ نے حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ٹھہرایا ہے اور اگر چہ حصول حقیقت اسلام کے وسائل اور بھی ہیں جیسے صوم وصلوٰۃ اور دعا اور تمام احکام الہی جو چھ سو سے بھی کچھ زیادہ ہیں لیکن علم عظمت و وحدانیت ذات اور معرفت شیون وصفات جلالی و جمالی حضرت باری عزّ اسمه وسیلة الوسائل اور سب کا موقوف علیہ ہے کیونکہ جو شخص غافل دل اور معرفت الہی سے بکلی بے نصیب ہے وہ کیا تو فیق پاسکتا ہے کہ صوم اور صلوٰۃ بجا لا وے یا دعا کرے یا اور خیرات کی طرف مشغول ہو۔ان سب اعمالِ صالح کا محرک تو معرفت ہی ہے اور یہ تمام دوسرے وسائل دراصل اسی کے پیدا کردہ اور اسی کے بنین و بنات ہیں اور ابتدا اس معرفت کی پر توہ اسم رحمانیت سے ہے نہ کسی عمل سے نہ کسی دعا سے بلکہ بلا علّت فیضان سے صرف ایک موہبت ہے۔يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَيُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ مگر پھر یہ معرفت اعمالِ صالحہ اور حسنِ ایمان کے شمول سے زیادہ ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ آخر الہام اور کلام الہی کے رنگ میں نزول پکڑ کر تمام صحن سینہ کو اُس نور سے منور کر دیتی ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس معرفتِ تامہ کے درجہ پر پہنچ کر اسلام صرف لفظی اسلام نہیں رہتا بلکہ وہ تمام حقیقت اس کی جو ہم بیان کر چکے ہیں حاصل ہو جاتی ہے اور انسانی روح نہایت انکسار سے حضرت احدیت میں اپنا سر رکھ دیتی ہے۔تب دونوں طرف سے یہ آواز آتی ہے کہ جو میرا سو تیرا ہے یعنی بندہ کی روح بھی بولتی ہے اور اقرار کرتی ہے کہ یا الہی جو میرا ہے سو تیرا ہے اور خدا تعالیٰ بھی بولتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ اے میرے بندے جو کچھ زمین و آسمان وغیرہ میرے ساتھ ہے وہ سب تیرے ساتھ ہے۔“ چونکہ یہ معرفت تا مہ یعنی کامل معرفت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو ملی۔اس لئے آگے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ استدلال کیا :۔اسی مرتبہ کی طرف اشارہ اِس آیت میں ہے قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى