خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 114
خطبات ناصر جلد ششم ۱۱۴ خطبه جمعه ۱/۴ پریل ۱۹۷۵ء ا کئے اور وہ تمام علوم جن کا تعلق عظمت اور واحدانیت باری سے ہے اُن کی کامل معرفت نوع انسانی میں سے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی۔اس لئے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے کہ آپ اول المسلمین ہیں یعنی سب سے اعلیٰ مسلمان ہیں چونکہ اسلام کی حقیقت کامل طور پر آپ کے وجود میں متحقق ہوئی ہے اور چونکہ آپ صفات باری کے مظہر اتم بنے ہیں اس لئے آپ اعلیٰ اور اکمل ہیں۔اب جس کسی نے بھی اپنی استعداد کی اپنے دائرہ استعداد میں کامل نشو و نما کرنی ہو اس کے لئے ہمارے عقیدہ کے مطابق ضروری ہے کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلامی کا رشتہ قائم کرے اور جیسا کہ قرآن کریم نے کہا ہے کامل اتباع نبوی کے نتیجہ میں اپنے لئے اپنی استعداد کے مطابق عرفانِ الہی کے حصول کی اور حقیقت اسلام کے حصول کی کوشش کرے اور ہر وہ شخص جو اتباع نہیں کرتا تو جیسا کہ وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دور ہو جاتا ہے ویسا ہی خدا سے بھی دور ہو جاتا ہے اور جو شخص آپ کی اتباع کرتا ہے اس کو اس اتباع کے نتیجہ میں روح القدس کی مدد حاصل ہوتی ہے اور اس کے رُوحانی علوم میں زیادتی کی جاتی ہے اور اس کے اپنے دائرہ میں اُسے دوسروں کے لئے نمونہ بنایا جاتا ہے یہ ہمارا عقیدہ ہے اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر اور بیان ہی سے ہم سب کچھ لیتے ہیں۔ایک حوالہ سناتا ہوں آپ نے آئینہ کمالات اسلام میں اس کے متعلق یوں بیان فرمایا ہے:۔قُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) یعنی اے میرے رب تو مجھے اپنی عظمت اور معرفت ،شیون اور صفات کا علم کامل بخش اور پھر دوسری جگہ فرما یا بذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ (الانعام: ۱۶۴) ان دونوں آیتوں کے ملانے سے معلوم ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اول المسلمین ٹھہرے تو اس کا یہی باعث ہوا کہ آپ اور وں کی نسبت علومِ معرفت الہی میں اعلم ہیں یعنی علم ان کا معارف الہیہ کے بارے میں سب سے بڑھ کر ہے اس لئے اُن کا اسلام بھی سب سے اعلیٰ ہے اور وہ اول المسلمین ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس زیادت علم کی طرف اُس دوسری آیت میں بھی اشارہ ہے جیسا کہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَ عَلَيْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا (النساء : ۱۱۴) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھ کو وہ علم عطا کئے جو تو خود بخود نہیں