خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 94
خطبات ناصر جلد ششم ۹۴ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء پس ساری دنیا انسان کی خدمت پر لگا دی گئی اور انسان کو یہ کہا کہ تیری ذات میں جو قو تیں اور استعدادیں ہیں ، اُن میں اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کوئی تضاد نہیں پیدا ہونا چاہیے کیونکہ تو نے خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننا ہے چنانچہ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اور ان کے بے شمار جلووں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔اُن کے اندر کوئی خلل نہیں ، اُن کے اندر کوئی فساد نہیں، ان کے اندر آپس میں کوئی مقابلہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ایک ایسی ہستی ہے جوحسن کا مجموعہ ہے ہمارے پاس تو وہ الفاظ نہیں ہیں جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے حسن کو بیان کیا جا سکے۔بہر حال جہاں تک ہو سکتا ہے ہم بات کرتے ہیں اور جہاں تک ہوسکتا ہے ہم سمجھتے ہیں اور انہیں الفاظ کا جامہ پہنا کر بات کرتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی کنہ کو سمجھنا انسان کا کام نہیں ، انسان تو بڑا عاجز ہے۔پس ظاہر ہے کہ تمام برکتیں اور نعمتیں اسی ہستی سے حاصل کی جاسکتی ہیں جس کی صفات میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا اور یہ خدا تعالیٰ ہی کی ہستی ہے جس کے متعلق ہمیں یہ حکم ہے کہ اس کی صفات کا مظہر بنو تو پھر ہماری زندگی میں بھی کوئی تضاد نہیں پایا جانا چاہیے کوئی فتور اور کوئی خلل اور کوئی فساد نہیں پایا جانا چاہیے۔اب مثلاً ایک آدمی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بڑا اچھا ذہن دیا ہے۔ذہنی لحاظ سے اُسے بہت اچھی استعداد میں دی گئی ہیں لیکن بعض گیپیں ہانکنے والے اس کے دوست بن گئے تو یہ گو یا اس کی زندگی میں تضاد پیدا ہو گیا۔اس کی علمی میدان میں آگے بڑھنے کی طاقت کچھ اور تقاضا کرتی ہے اور گپیں مارنے کی عادت کچھ اور تقاضا کرتی ہے چنانچہ جب اس کی ایک حصہ زندگی میں تضاد پیدا ہو گیا تو وہ نا کام ہو گیا۔ہمارے ملک میں بھی اور بعض دوسرے ملکوں میں بھی بڑے اچھے ذہین بچے پیدا ہوتے ہیں مگر وہ اس لئے ضائع ہو جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کرتے ہیں جو انہیں ذہنی استعدادوں کی شکل میں میسر آتی ہے۔البتہ یہ صحیح ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی طاقتوں کے مطابق تو اپنی زندگی میں اپنی طاقتوں کے جلوے نہیں دکھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق قرآن کریم میں یہ بھی آتا ہے لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ (البقرة : ۲۵۶)