خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 95
خطبات ناصر جلد ششم ۹۵ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء وہ ہر وقت پورا چوکس اور بیدار رہتا ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال اور اس کی کبریائی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن بہر حال ہمارے پاس یہی الفاظ ہیں کہ وہ پوری چوکسی کے ساتھ رہتا ہے اور غفلت کے کسی پہلو میں بھی نہیں پڑتا۔وہ ہر قسم کی غفلت سے آزاد ہے اور اپنی طاقتوں کے جلوے ظاہر کرتا ہے۔ہم نے اپنی استعدادوں کے مطابق کام کرنا ہے اپنی Faculties ( فیکلٹیز ) کے مطابق، اپنی طاقتوں کے مطابق اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرنا ہے۔یہ درست ہے لیکن اپنی صلاحیتوں کے مطابق پورا کام کرنا ہے۔جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی خدائی میں پورا کام کرتا ہے لیکن اس کی خدائی غیر محدود ہے ہم اس کی طاقتوں کا احاطہ نہیں کر سکتے انسان اور اس کی طاقتیں محدود ہیں یہ درست ہے لیکن اپنی اپنی طاقت ، استعداد اور صلاحیت کو پورے اور کامل طور پر بروئے کار لانا ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ کی صفات کے مقابلہ میں کوئی تضاد نہیں پیدا ہو گا لیکن ایک شخص ہے جسے خدا تعالیٰ نے اعلیٰ ذہن دیا ہے اور وہ اسے ضائع کر رہا ہے تو یہ اندرونی تضاد بھی ہے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے مقابلہ میں بھی تضاد ہے۔میں نے بتایا ہے کہ بڑے اچھے ذہن ضائع ہو گئے اسی طرح جس طرح اچھے خوبصورت جسموں والے بچے پیدا ہوتے ہیں مگر بچپن میں گندی عادتوں میں پڑ جاتے ہیں اُن کی آنکھیں گڑھے میں چلی جاتی ہیں موت اُن کی آنکھوں میں نظر آنے لگتی ہے اُن کے گلے پچکے ہوئے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو محفوظ رکھے۔ہر شخص جو عقل رکھتا ہے اُس کے سامنے جب کبھی کوئی گندی عادتوں والا بچہ آئے تو وہ اپنے چہرے سے اپنی تاریخ بھی پڑھا دیتا ہے کہ یہ میرا ماضی ہے تو یہ تضاد ہے۔خدا تعالیٰ کی منشاء کچھ اور ہے اور اس کا عمل کچھ اور ہے اور اسی کو تضاد کہتے ہیں ہر شخص کو حسن عمل کی طاقت دی گئی ہے مگر جب اس کا ضیاع ہوتا ہے تو تضاد پیدا ہوجاتا ہے ہرضیاع تضاد ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اے لوگو! اگر تم میری رحمتوں اور برکتوں اور نعمتوں سے کامل حصہ لینا چاہتے ہو تو تمہاری زندگی میں کسی قسم کا تضاد نہیں پایا جانا چاہیے۔فرمایات برَكَ الَّذِى بِيَدِهِ الْمُلْكُ تمام برکتوں اور نعمتوں کا سر چشمہ اور منبع وہ ذات ہے جو بادشاہ ہے اور حقیقی طور پر