خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 93 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 93

خطبات ناصر جلد ششم ۹۳ خطبه جمعه ۱۴ / مارچ ۱۹۷۵ء سکتی ہیں اور اس طرح حاصل کی جاسکتی ہیں کہ تمہاری زندگی میں جہاں تک خدا تعالیٰ کے ساتھ تمہارا تعلق ہے یا تمہاری مختلف اندرونی صفات کا تعلق ہے ان میں کوئی تضاد نہ پایا جائے۔تم سارے کے سارے اللہ تعالی کے ہوکر رہو تب تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر قسم کی برکتیں اور نعمتیں ملیں گی لیکن اگر تم سارے کے سارے اللہ تعالیٰ کے لئے ہو کر اس میں زندگی گزارنے کے لئے تیار نہیں ہو گے تو پھر تمہیں کسی قسم کی برکتیں اور نعمتیں نہیں ملیں گی اور جو دنیا کے اموال ملیں گے وہ بھی برکت کے طور پر نہیں بلکہ لعنت کے طور پر ملیں گے۔وہ اس لئے نہیں ملیں گے کہ ان کے حصول کے بعد تم نے اپنے لئے جنت کے دروازے کھولے بلکہ وہ اس لئے ملیں گے کہ تم اُن کی وجہ سے جہنم کے اور بھی نچلے درجے کی طرف چلے جاؤ۔دیکھو ایک وہ مال تھا۔میں اب یہ بتا رہا ہوں کہ مال مال میں فرق ہوتا ہے۔ایک وہ مال تھا جو اُس شخص کو ملا جس کی زندگی خدا تعالیٰ کی صفات کی مظہر تھی اور اس میں کوئی تضاد نہیں تھا یعنی اس کی زندگی میں جو اعمال تھے اُن میں اور خدا تعالیٰ کی صفات کے انعکاس میں کوئی تضاد نہیں تھا چنانچہ دیکھ لو جب فتوحات ہوئیں اور مدینہ میں اموال غنیمت آئے تو کہتے ہیں ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ دینا ر آئے تو وہ تقسیم کرنے بیٹھ گئیں۔انہوں نے غرباء اور مستحقین میں تول تول کر بانٹنا شروع کر دیا اور آخر سارا مال تقسیم کر کے ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہو گئیں۔آخر کوئی جذبہ تھا جس نے اُن سے یہ عمل کروایا۔اصل چیز یہ ہے کہ وہ طاقتیں اور عرفان جو انہیں حاصل تھا وہ اُس وقت کیا کہتا ہے، کچھ اُس وقت کے حالات ہوں گے کچھ دوسروں کو سبق دینا ہوگا۔یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ انہی صحابہ کرام میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے بڑے فخر سے کسری کے رومال میں تھوکا اور پھر اس کو استعمال کیا۔یہ نہیں کہ کسی اور کو دے دیا لیکن ان کے ہر عمل میں یہ چیز نظر آتی ہے کہ اُن کے عمل میں تضاد کوئی نہیں تھا۔پس ایک وہ مال ہے جس کے ذریعہ انسان قرب الہی حاصل کرتا ہے اور ایک وہ مال ہے جس کے ذریعہ لوگ ساری ساری رات شراب پیتے اور عیش کرتے ہیں۔گو یا مال مال میں فرق ہوتا ہے ویسے مال اپنی ذات میں کوئی بری چیز نہیں ہے جس رنگ میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے وہ اس مال اور دولت کی حقیقت کو بدل دیتا ہے۔