خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 637 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 637

خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۷ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء پر کوئی ایسی دلیل پیش کرنے پر قادر نہ ہونا جو ہماری عقل کو منوا دے اور خدا کے ہونے پر ہماری طرف سے ایسے دلائل پیش ہو جانے جن دلائل کو توڑنے پر تمہارا قادر نہ ہونا اور اس کے باوجود یہ کہنا کہ جی خدا تعالیٰ نہیں ہے یہ تو ظاہر ہے کہ غیر معقول بات ہے۔بہر حال اس وقت خدا تعالیٰ کی ہستی پر ایک زبر دست دلیل جو ہمیں دی گئی ہے وہ قرآن کریم ہے یعنی قرآن کریم کا بے مثل و مانند ہونا لیکن انسان کے ہاتھ سے تیار کردہ ہر چیز کا اس صفت سے متصف نہ ہونا بلکہ دوسرے انسان کا ویسا ہی بنالینا یا اس سے بہتر بنالینا اور قرآن کریم کی مانند ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہ بنا سکنا اور قرآن کریم کی اس دعوت مقابلہ کو منظور کرنے سے گریز کرنا کہ اگر یہ خدا کا کلام نہیں تو اس کی مثل پیش کرو کیونکہ اگر قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام نہیں تو پھر انسان کا کلام ہے اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا ہر چیز جو انسان بنائے ، جو انسان کی طاقت سے نکلی ہو خواہ وہ اس کی بنائی ہوئی چیزیں موٹر وغیرہ ہوں یا اس کا کلام ہو وہ بے مثل و مانند ہوتا ہی نہیں۔اگر تمہارے نزدیک قرآن کریم انسان کا بنایا ہوا کلام ہے تو تمہارے جیسے انسانوں کو یہ طاقت ہے کہ تم اس جیسا بنا سکو کیونکہ تم بھی انسان ہو۔اگر قرآن کریم کو انسانی طاقت نے بنایا ہے تو تمہاری (انسانی) طاقت اس کی مثل و مانند بنا سکتی ہے لیکن تم اس طرف آتے نہیں اور اس طرح تم اس بات کا اعلان کرتے ہو کہ تم میں انسانی طاقتوں کا عروج ہونے کے باوجود قرآن کریم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔تمہارا یہ دعویٰ ہے اور ایک حد تک یہ واقعہ بھی ہے کہ دنیوی لحاظ سے یہ دہر یہ ممالک بہت ترقی یافتہ ہیں، تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ تم ہو یا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک میں سے تم ہو اور دنیوی لحاظ سے آج کا مسلمان بہر حال کمزور ہے اور دنیوی لحاظ سے آج کی احمدیت بہت ہی زیادہ کمزور ہے۔پس اتنی بڑی طاقت رکھنے کے با وجود ایک چھوٹی سی جماعت کے مقابل اس دلیل قرآنی کو توڑنے کے قابل نہ ہونا کہ خدا نے یہ کہا اور ہم خدائے واحد و یگانہ پر ایمان لاتے ہوئے اور خدا کے کلام پر ایمان لاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ کوئی انسانی طاقت قرآن کریم کی مثل و مانند بنانے پر قادر نہیں خواہ وہ انسانی طاقت روس جیسی زبر دست طاقت یا امریکہ جیسی زبر دست طاقت یا چین جیسی زبر دست طاقت ہی کیوں