خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 638 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 638

خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۸ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء نہ ہو۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن کریم خدا کا کلام ہے، خدا تعالی کی ہستی پر نہایت واضح اور معقول دلائل موجود ہیں، ایک ہے عقل کا دائرہ۔عقل یہ کہتی ہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا یا عقل اسی طرح اور بہت سی باتیں کہتی ہے اس پر بھی کسی وقت توفیق ملی تو تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔بعض چیزوں کے متعلق عقل یہ کہتی ہے کہ عقلاً یہ بات نہیں ہوسکتی۔مثلاً عقل یہ کہتی ہے کہ ۱+۱+۱، ایک نہیں ہو سکتے بلکہ تین بنیں گے یہ عقل کہتی ہے۔پانچویں چھٹی جماعت کے بچے کو بھی پتہ ہوگا کہ ایک +ایک+ ایک تین بنتے ہیں ایک نہیں بنتا اسی طرح عقل یہ کہتی ہے کہ ۵+ ۵ دس بنتے ہیں سونہیں بنتا اگر کوئی یہ کہے کہ جی میرے پاس اتنی زبر دست روحانی دلیل ہے کہ ۱۵ اور ۵ کوستو بنا دیتا ہوں تو عقل کہتی ہے کہ چلے جاؤ ہم نہیں تمہاری بات ماننے کے لئے تیار لیکن بعض جگہ عقل کہتی ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کیونکہ انسان کو صرف عقلی طاقتیں ہی نہیں دی گئیں بلکہ اس کو بالائے عقل طاقتیں بھی دی گئیں ہیں اور قرآن کریم نے جہاں ان کا ذکر کیا ہے وہاں اُس نے دلائل دیئے ہیں اور بتایا ہے کہ جو بالائے عقل طاقتیں ہیں اُن کے ثبوت کے لئے اس قسم کی باتوں کی ضرورت ہے۔بہر حال یہ تو ہستی باری تعالیٰ کے متعلق جو بہت وسیع اور تفصیلی مضمون اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کیا ہے اس کی باتیں ہیں۔اس وقت میں پھر تیسری دفعہ یہ کہتا ہوں تا کہ بچوں کے بھی ذہن نشین ہو جائے کہ جس چیز کو انسانی قوی نے بنایا ، جس چیز کو انسانی طاقت نے بنایا اُس چیز کو انسانی طاقت بنا سکتی ہے۔اگر نہ بنا سکتی تو یہ بھی درست نہ ہوتا کہ اس چیز کو انسانی طاقت نے بنایا۔جس چیز کو انسانی طاقت نے بنایا اسے انسانی طاقت بنا سکتی ہے اور جس چیز کو انسانی طاقت نہ بنا سکے اسے انسانی طاقت نے نہیں بنایا اور قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہے کہ میرے جیسا کلام انسانی طاقت نہیں بنا سکتی میں بے مثل و مانند ہوں اور بے مثل و مانند بنانے کی طاقت صرف اُس ہستی کو ہے جو خود بے مثل و مانند ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ذات باری پر علی وجہ البصیرت ایمان رکھنے کی توفیق عطا فرما تا چلا جائے اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ وہ لوگ جو دور چلے گئے ہیں ہم عقلی دلائل کے ساتھ اور مشاہدات اور تجربات کے ذریعہ ان کو اس بات کا قائل کر سکیں کہ وہ غلطی پر ہیں اور نقصان اٹھا