خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 636

خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۶ خطبہ جمعہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۷۶ء موجود ہیں کیوں وہ مقابلے کے اس چیلنج کو جو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق دیا ہے قبول نہیں کرتے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ خدا کا کلام نہیں تو اس کی ایک مثل پیدا کر دو لکھو۔کوئی تحریر لاؤ، ساری کتاب نہ سہی کوئی چھوٹا سا ٹکڑالا ؤ۔کسی جگہ دس آیتوں کا مطالبہ کیا ہے کسی جگہ سورۃ کا مطالبہ کیا ہے میں ان کی تفصیل میں جا کر مطالبات کی حکمت اس وقت بتانے کے لئے کھڑا نہیں ہوا۔غرض قرآن کریم کا بے مثل و مانند ہونا اور قرآن کریم کا ابتدائے نزول سے ہی دنیا کو ایک چیلنج دینا کہ اگر ہمت ہے تو میرے مقابلہ پر آؤ اور دنیا کا اسے قبول نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام انسان کی طاقت سے نازل نہیں ہوا، نہ بنایا گیا۔کیونکہ جو چیز قوائے بشریہ سے بنتی ہے وہ بے مثل و مانند ہوتی ہی نہیں۔ہمارا مشاہدہ یہ ہے۔ہماری عقل یہ کہتی ہے ہماری تاریخ یعنی انسان کی تاریخ یہ بتاتی ہے ابھی میں نے اس کی طرف مختصراً اشارہ کیا تھا۔پس قرآن کریم کا بے مثل و مانند ہونا اس بات پر زبردست دلیل ہے کہ اللہ واحد و یگانہ موجود ہے اور یہ کلام خدائے واحد و یگانہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس وقت سب سے بڑی طاقت جو دہریت کی علمبردار ہے وہ کمیونسٹ رشیا (روس) ہے۔وہ کہتے ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ اگر خدا نہیں ہے تو قرآن کریم کے چیلنج کو قبول کرو۔تمہارے اپنے ملک میں بہترین عربی دان موجود ہیں، دنیا میں عربی کلام سے محبت کرنے والے عربی زبان سے محبت کرنے والے چوٹی کے ماہر غیر مسلم موجود ہیں کسی مذہب کی طرف منسوب ہونے والے غیر مسلم بھی موجود ہیں اور خدا کا انکار کرنے والے غیر مسلم بھی موجود ہیں۔چنانچہ اتنی زبر دست دعوت مقابلہ تمہیں دی گی ہے۔خالی تمہارا یہ شور مچاتے رہنا کہ خدا نہیں ہے ایک عظمند انسان جس کے سامنے یہ دلیل رکھی جائے اور اس قسم کے اور دلائل رکھے جائیں وہ تمہاری بات نہیں مان سکتا کیونکہ جہاں بہت سی ایسی دلیلیں ہوں گی جن کے ساتھ دعوت مقابلہ نہیں ہے وہاں ہم سینکڑوں ایسے دلائل پیش کر سکتے ہیں جن کے ساتھ دعوت مقابلہ بھی دیں گے۔قرآن کریم نے کھلے طور پر اپنا کلام الہی ہونا ذات باری پر دلیل ٹھہرایا ہے یہ بڑی زبردست دلیل ہے اور اس نے یہ چیلنج دیا ہے تحدی کے ساتھ یہ دعوت مقابلہ دی ہے کہ آؤ اور میرا مقابلہ کرو۔محض یہ کہ دینا کہ خدا نہیں ہے اور خدا کے نہ ہونے