خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 629
خطبات ناصر جلد ششم ۶۲۹ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء سی کار۔زمین سے تین فٹ اونچی اٹھی ہوئی۔ابھی تک انہوں نے اپنے میوزیمز میں رکھی ہوئی ہیں اور لوگ اُس پرانی کار کو دیکھنے کے لئے پیسے دے کر ٹکٹ لے کر میوزیم میں جاتے ہیں۔یورپ کے مختلف ممالک اور انگلستان اور امریکہ وغیرہ میں۔اور آج سے جو ۷۰۔۸۰ سال پرانی کار تھی اگر کسی نے اس کا پنجر صحیح حالت میں صحیح شکل میں رکھا ہوا ہے تو اس کی بڑی قیمت پڑ جاتی ہے۔اس کی تاریخی قیمت ہے کہ انسان ایک وقت میں ایسی کار بنایا کرتا تھا اور پھر اس نے ترقی کی اور ۷۰۔۸۰ سال کے بعد اب ایسی کار بنانی شروع کر دی۔پس جو چیز قوت بشریہ نے بنائی انسانی طاقت اس کے بنانے پر قادر ہے اور اس سے بہتر بنانے پر قادر ہے۔یہ بڑی موٹی بات ہے۔بچہ بڑا عورت مرد سب اس مسئلے کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔لیکن جو چیز اللہ تعالیٰ کے دستِ قدرت سے نکلی وہ بے مثل و مانند ہے۔انسان وہ بنا ہی نہیں سکتا۔نہ آج تک کسی انسان نے بنائی نہ انسان وہ بنا سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور جگہ اپنے منظوم کلام میں فرمایا ہے کہ بشر کیڑے کا ایک پاؤں بھی نہیں بنا سکتا اور یہ حقیقت ہے۔اب بڑی عمر میں انسان کے دانت گرنے شروع ہو جاتے ہیں کسی کی بڑی عمر دانتوں کے لحاظ سے جلدی شروع ہو جاتی ہے کسی کی دیر کے بعد۔تو انسان بھی مصنوعی دانت بنا تا ہے لیکن جو دانت خدا نے بنایا ہے ویسا دانت وہ بنا ہی نہیں سکتا۔کئی ناسمجھ کہہ سکتے ہیں کہ انسان نے دانت بنا دیا۔میں کہتا ہوں کہ انسان نے دانت نہیں بنایا بلکہ اس کی نقل بنائی ہے۔خدا تعالیٰ نے جو دانت بنایا ہے اس کے اندر ایک نرو (Nerve) ہوتا ہے اور اس نرو (Nerve) کا تعلق خدا تعالیٰ نے انسان کے سارے جسم کے اعصاب (Nerves) کے ساتھ باندھ دیا ہے۔یہ ہے خدا کا بنایا ہوا دانت۔لیکن یہ اس کا ایک پہلو ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے دانت کے تو اور بے شمار پہلو ہیں۔میں آپ کو مثال سمجھانے کے لئے اس کا ایک پہلو بتا رہا ہوں۔خدا نے جو دانت بنایا ہے اس کے وسط میں سے ایک نرو ( Nerve) قریباً نیچے تک آیا ہوا ہے اور اس کو ڈھانکنے کے لئے اس کی کوررنگ (Covering) ہے۔اُس نرو (Nerve) کا تعلق سارے جسم کے نروز (Nerves) سے ہے۔جب اس میں درد ہو تو انسان کا سارا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔اس کی درد کو سارے اعصاب