خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 628 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 628

خطبات ناصر جلد ششم ۶۲۸ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء نہیں دے سکتا۔اس وقت میں صرف ایک دلیل لوں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔اور یہ بات ظاہر ہے بچے بھی اس کو سمجھ جائیں گے کہ جس چیز کو انسانی قوی نے بنایا ہے اس چیز کے بنانے پر انسانی قومی قادر ہیں۔جو چیز انسان کے ہاتھ سے بنی ہے انسانی ہاتھ اسے بنا سکتا ہے تبھی تو وہ بن گئی تو جس چیز کو انسانی طاقت نے اور اس کی قوتوں نے بنایا ہے انسان کی طاقت اور قوت اس کے بنانے پر قادر ہے اس واسطے انسان کے ہاتھ کی بنی ہوئی کوئی چیز بھی بے نظیر اور بے مثل نہیں ہے ایک انسان نے بنائی دوسرا بھی بنا سکتا ہے۔چنانچہ جب ہم انسانی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو انسان ہمیں شروع سے ہی ایک حرکت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ایک نسل دنیوی لحاظ سے کچھ پیدا کرتی ہے اور اس کے بعد آنے والے نہ صرف اس کی مانند بنا سکتے ہیں بلکہ اس سے بہتر بنا سکتے ہیں۔آپ پڑھتے رہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی حکومت کی طرف سے ہر سال اس قسم کے اعلانات ہوتے ہیں کہ گندم کا فلاں بیچ جو بڑا اچھا تھا اس سے بہتر بیج ہمارے محکمہ زراعت نے بنالیا ہے اور وہ بونا چاہیے۔اسی طرح آج کل کاریں انسانی ضرورت کو پورا کر رہی ہیں اور بڑی کثرت سے استعمال ہو رہی ہیں۔کار کی صنعت کی تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو ایک وقت میں دنیا میں بڑا شور بپا ہوا کہ انسانی طاقت نے کار بنالی اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اب انسانی طاقت کا رنہیں بنا سکتی۔انسانی طاقت نے کار بنائی، انسانی طاقت کار بنا سکتی ہے۔پھر یہ اعلان آنے شروع ہوئے کاروں کی ساری فر میں یہ اشتہار دیتی ہیں کہ ۷۴ کا ماڈل آ گیا جو ۷۳ کے ماڈل سے زیادہ اچھا ہے۔فورڈ ایک کا ر ہے اس کی طرف سے اعلان ہوتا ہے۔یہاں جاپانی کاریں ٹیوٹا وغیرہ آئی ہوئی ہیں ان کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ ہم نے پچھلے سال کی نسبت بہتر ماڈل بنا دیا۔پس صرف یہی نہیں کہ انسان کی طاقت نے جو بنا یا دوسرے انسان کی طاقت میں ہے کہ وہ بھی بنالے بلکہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیوی زندگی میں بھی ، انسانی نسل کو اس دنیوی زندگی میں بھی بے انتہا ترقیات کی طاقت دی ہے۔انسان بھی تو خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے پیدا ہوا ہے نا۔غرض انسان نے کا ربنائی ایک بڑی بے ڈھنگی