خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 630
خطبات ناصر جلد ششم ۶۳۰ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء اس کے ساتھ محسوس کرتے ہیں اور انسان کو بے چین کر دیتے ہیں لیکن آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کہ ”انسان“ نے جو دانت بنایا ہے اس میں کبھی درد بھی ہوئی اور اس دانت کے نتیجے میں ایک انسان ساری رات جاگتا رہا اور کروٹیں بدلتا رہا اور اس کو نیند نہیں آئی۔اس میں درد ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ اس میں نروز (Nerves) ہی نہیں۔وہ دانت خدا کے بنائے ہوئے دانت کی طرح ہے ہی نہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے دانت میں جو نر و (Nerve) ہے اگر اس میں تکلیف ہو تو انسان ساری رات سو ہی نہیں سکتا۔یہ میں نے صرف ایک بات بتائی ہے جو انسان کے بنائے ہوئے دانت اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے دانت کے درمیان اختلاف ظاہر کرتی ہے ورنہ بے حد اختلاف ان میں پائے جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فرمایا ہے کہ انسان کیڑے کا ایک پاؤں بھی نہیں بنا سکتا۔اس سلسلے میں مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔انسان نے الیکٹرانک مائیکر وسکوپس بنالی ہیں یعنی ایسی الیکٹرانک خوردبین جو چیز کو بہت زیادہ بڑا کر کے دکھاتی ہے۔ہماری پنجاب یونیورسٹی میں وہ نئ نئی پہنچی تھی۔میں پرنسپل تھا تو ہمیں تنگ کیا کرتے تھے کہ تمہیں ایم۔ایس۔سی کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ تمہارے پاس تو الیکٹرانک خورد بین بھی نہیں ہے حالانکہ ایم۔ایس سی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے اور خود ان کو تحفہ ملی ہوئی تھی جس کا وہ استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ایک دفعہ میں لا ہور گیا تو میں نے کہا یہ ہمیں تنگ کرتے ہیں میں ان سے مزاح کروں۔چنانچہ میں وہاں چلا گیا میں نے کہا کہ مجھے دکھاؤ ، بڑی اچھی ہے، کس نے تحفہ دی ، کس ملک سے آئی وغیرہ۔ان کی باتوں سے مجھے پتہ لگا کہ انہوں نے اس کو بس ایک مقدس اور بزرگ چیز بنا کر رکھا ہوا ہے اور اس کو استعمال کرنا بھی نہیں جانتے۔ان کو شرمندہ کرنے کے لئے میں نے انہیں کہا کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے فرمایا ہے کہ جو چیزیں خدا تعالیٰ کے دست قدرت سے نکلی ہیں انسان ویسی نہیں بنا سکتا اور مثال دی ہے کہ کیری کا ایک پاؤں بھی نہیں بنا سکتا تو مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ تمہارے پاس اتنی زبر دست خورد بین آگئی ہے۔آپ نے ہمیں جو دلیل دی ہے اس کی وضاحت کے لئے ایک چیونٹی کے پاؤں کی مجھے تصویر لے دو۔وہ الیکٹرانک خوردبین تصویر بھی