خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 462
خطبات ناصر جلد ششم ۴۶۲ خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۷۶ء ناکامی کی طرف لے جانے والی ہیں۔دنیا میں بے شمار ایسی مثالوں کا پایا جانا (یعنی جن کا انسان شمار نہیں کرسکتا ) اور دنیا کے ان حصوں میں بھی پایا جانا جن کے رہنے والے دنیا میں بہت عقلمند سمجھے جاتے ہیں ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی کوشش اور اپنی عقل سے فلاح اور کامیابی کے حصول کے ذرائع کو معلوم نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے۔قرآن کریم نے کامیابیوں کے حصول کے لئے متعدد جگہ مختلف پہلوؤں سے صداقت و ہدایت کی راہوں کی نشاندہی کی ہے اور ان راہوں کو روشن کیا ہے اور ان کی طرف انسان کی رہنمائی کی ہے اور ان کی برکتوں کی طرف انسان کو متوجہ کیا ہے۔اس وقت جو مختصر سی آیت میں نے پڑھی ہے اس میں اس سلسلہ میں ایک حسین مضمون بھی بیان ہوا ہے۔” بھی میں اس لئے کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں اور ہر بطن اس کے حسن کو دوبالا کرنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری حقیقی کامیابی اس بات میں ہے کہ تم ان راہوں سے پر ہیز کرتے ہوئے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ان بدعقائد اور بد اعمال سے بچتے ہوئے جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور قہر نازل ہوتا ہے خدا تعالیٰ کے حضور وہ چیز پیش کرو جو اسے پسند ہو اور اس کی پناہ میں آجاؤ اپنی حفاظت کے لئے اسے اپنی ڈھال بنا لو اور اسے اپنی کامیابی کا ذریعہ بنا لو تو تب تم کامیاب ہو گے اور ایک ایسی کامیابی تمہیں حاصل ہوگی جس سے بڑھ کر کسی کامیابی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔فلاح کے معنی عربی میں عظیم کا میابی کے ہوتے ہیں۔یايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ اے ایمان کا دعوی کرنے والو! نا کامیوں سے بچنے میں اپنی حفاظت کے لئے خدا تعالیٰ کو اپنی پناہ بنا لو اور اس کو اپنی ڈھال بنا لو وَ ابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ اور ڈھال اس طرح بناؤ کہ اس کے قرب کی راہوں کو تلاش کرو۔زبانی دعوؤں سے تو اللہ تعالیٰ کسی کی ڈھال نہیں بن سکتا بلکہ اس کے قرب کی راہیں معین ہیں اور ان معین راستوں کو اختیار کر کے ان راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ انسان کو اس مقام تک پہنچادیتا ہے جو مقام کہ اس کے قرب کا مقام اور اس کی رضا کا مقام ہے۔وَسِيلَة کے لئے تین طریقے بیان کئے گئے ہیں اور وہ اس مضمون کو ظاہر کرتے اور اس کو نمایاں کرتے ہیں۔وسيلة “ کے معنی ہیں خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا اور اس کے لئے جو