خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 355
خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۵ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ جب انسان قُرب کے ایک خاص مقام پر پہنچتا ہے تو اس کے حق میں بظا ہر قانون ٹوٹتا ہے لیکن یہ یوں ہی نہیں ہوتا بلکہ قانون کا ٹوٹنا بھی کسی قانون ہی کے ماتحت ہوتا ہے کیونکہ ہم قانون قدرت کی حد بست تو کر ہی نہیں سکتے۔خدا کا قانون یہ کہتا ہے کہ اگر مچھلی انسان کو نگل جائے گی تو وہ ختم ہو جائے گا۔یہ قانون قدرت ہے۔دنیا میں سینکڑوں بلکہ میرے خیال میں ہزاروں انسانوں کو مچھلی نے نگلا۔گو تعداد تو کسی نے محفوظ نہیں رکھی لیکن ہزاروں انسانوں کو مچھلیوں نے نگل لیا اور ان کی زندگی ختم ہو گئی یہ قانون قدرت ہے۔نظام قدرت میں قضا و قدر نے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ جہاں تک جان دار کا سوال ہے مچھلی کے پیٹ میں جا کر کوئی زندہ نہیں نکلا کرتا۔اربوں جاندار چیزیں مچھلی کے پیٹ میں گئیں اور وہ ختم ہو گئیں مثلاً بعض مچھلی کھانے والی مچھلیاں ہیں جو ۲، ۲ سیر پکے کی مچھلیاں کھا جاتی ہیں حتی کہ بعض تو ۳۰،۲۰،۲۰، ۳۰ سیر کی زندہ سلامت تیز دوڑنے والی مچھلی ان کے قابو آ جائے تو نگل لیتی ہیں۔یہ قانون قدرت ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی کو خدا تعالیٰ نے یہ نشان دکھایا تھا (اس واقعہ کی تفصیل میں جانے کا یہ وقت نہیں ) اُن کو مچھلی نے نگل لیا تو ان کی جان بچانے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنا قانون بظاہر توڑ دیا لیکن کسی قانون کے ماتحت تو ڑا اور اس واسطے جب اور جہاں ہمیں یہ نظر آئے کہ خدا تعالیٰ کا قانون کیسے ٹوٹ سکتا ہے تو حقیقت تو یہ ہے کہ قانون ٹوٹا نہیں صرف وہ قانون ٹوٹتا ہمیں نظر آیا جس کا ہمیں علم تھا۔خدا تعالیٰ کے سارے قوانین کا تو ہمیں علم ہی نہیں۔ہم اُن کی حد بست کر ہی نہیں سکتے ، کبھی بھی نہیں کر سکیں گے قیامت تک نہیں کر سکیں گے۔پس خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے ظاہر میں نظر آنے والا قانون بھی بدل دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کا کسی قانون کو بدلنا بھی ایک قانون کے مطابق ہوتا ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کو قانون قدرت میں باندھ دیا ہے۔میں بتا چکا ہوں اس دنیا میں سب آثار الصفات یا صفات الہیہ کے جلوے ہیں اسی کا نام سنت اللہ ہے اور اسی کو قانون قدرت بھی کہتے ہیں مثلاً یہ علت ہوگی تو یہ اس کا معلول پیدا ہو جائے گا یہ چیز دوسرے کو پیدا کرے گی وغیرہ وغیرہ لیکن اس کو خدا نے قضا و قدر کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔البتہ ان قوانین کی ہم حد بست نہیں کر سکتے اسی واسطے ہم کہتے ہیں اور