خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 356
خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۶ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء ہمارے بزرگ بھی کہتے چلے آئے ہیں کہ تقدیر میں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک تقدیر ہے معلق اور ایک ہے مبرم۔معلق تقدیر عام تقدیر ہے مثلاً یہ معلق تقدیر ہے کہ روٹی کھاؤ گے تو پیٹ بھرے گا، نہیں کھاؤ گے تو بھوکے مرو گے۔یہ تقدیر ہے یہ قضا و قدر ہے اور ایک تقدیر ہے جوٹل نہیں سکتی۔اس کا تو انسان کو پتہ ہی نہیں لگتا سوائے اس کے کہ خدا خود بتائے۔پتہ اسی وقت لگتا ہے جب واقع ہو جاتا ہے پھر لوگ پریشان ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وحی والہام کے ذریعہ بہت زبر دست پیش خبریاں دی گئیں۔جب میں ۱۹۶۷ء میں یورپ کے دورے پر گیا تو میں نے ایک مضمون لکھا اور لندن میں پڑھا۔اس موقع پر بہت سارے انگریز آئے ہوئے تھے۔ان میں کچھ تو بڑے پڑھے لکھے اور ایم پی اے وغیرہ بھی تھے۔میں نے اس مضمون کو شروع ہی اس طرح کیا۔میں نے کہا اگر میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو پوری ہو چکیں تو تم کہو گے اب آ گئے ہو جب وہ باتیں پوری ہو گئیں تو تم نے پیشگوئیاں سنانی شروع کر دیں اور اگر میں تمہیں وہ باتیں بتاؤں جو ابھی پوری نہیں ہوئیں لیکن جن کی خدا تعالیٰ نے پہلے سے خبر دے رکھی ہے اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو نقشہ الہامات میں کھینچا گیا ہے یعنی جو قرآن کریم میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارتیں دی ہیں وہ بتاؤں تو تم کہو گے کہ مشرق سے پتہ نہیں کون پاگل آ گیا ہے کیسی پاگلوں والی باتیں ہمارے ساتھ کر رہا ہے تو تمہارے لئے بڑی مشکل ہے۔میرے لئے سمجھانا مشکل ہے اور تمہارے لئے سمجھنا مشکل ہے۔تم اپنے آپ کو بہت عقلمند سمجھتے ہولیکن یہ میں بتا دیتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ ہے (میں نے اپنے مضمون کو اسی پر ختم کیا ) کہ اگر تم خدا کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو جو مرضی کر لو تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے اگر تم ہلاکت سے بچنا چاہتے ہو تو اس رب العلمین کی طرف رجوع کرو جو اسلام تمہارے سامنے آج پیش کرتا ہے۔پس جو تقدیر مبرم ہے اس کے متعلق لوگ کہہ دیتے ہیں ہمیں تو پتہ ہی نہیں کونسی مبرم ہے سوائے اس کے کہ خدا خود بتائے اور میں نے بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے چھپے ہوئے قانون کی تاریں کھینچتا ہے یہ بھی اس کا اپنا قانون ہوتا ہے لیکن انسان کے علم میں نہیں ہوتا۔بظا ہر تقدیر مبرم