خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 354

خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۴ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء دل کو حکم ہو جاتا ہے کہ دوائی کے اثر کو قبول کرے چنانچہ وہی دوا جو کل تک بے اثر تھی آج اثر کرتی ہے اور بیمار کو آرام آجاتا ہے۔جیسا کہ میں نے ابھی خطبہ کے شروع میں بتایا ہے خدا تعالیٰ کی قدرتیں یعنی آثار الصفات عام محاورے میں ان کو قدرت کہتے ہیں اور اسے عام طور پر سب لوگ سمجھ جائیں گے ) غیر محدود ہیں۔انسان اُن کی حد بست کر ہی نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کے لئے بظاہر اپنے قانون کو توڑتا ہے لیکن قانون تو اس کے بندہ کے لئے ہے جو قانون اس کے نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے وہ ہمیں معلوم نہیں اس قانون کا ہمیں پتہ نہیں۔ہم اپنے علم کے مطابق سمجھتے ہیں کہ قانون توڑا گیا لیکن قانون توڑا بھی گیا ہمارے علم کے مطابق لیکن اس تبدیلی کے لئے جو قانون کے اندر آئی ہے اس کے لئے بھی قانون ہے ہمیں اس کا پتہ نہیں ہے مثلاً قانون قدرت یہ کہتا ہے اگر کسی کو بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے تو آگ اس کو جلا دے گی۔یہ قانون قدرت ہے اور یہی قضا و قدر ہے۔خدا تعالیٰ نے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ بھڑکتی ہوئی آگ میں اگر کسی انسان کو ڈالا جائے تو وہ جل جائے گا لیکن اگر اللہ چاہے تو ایک اور قانون جو پوشیدہ ہے ہماری نظر سے ، خدا اپنے بندہ کے لئے اس کو حرکت میں لاتا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا لیکن وہ نہیں جلے۔آج کل کے دہر یہ خیال رکھنے والوں نے اس پر اعتراض کر دیا کہ یہ تو ایک قصہ کہانی ہے اور بس۔ورنہ آگ کیسے نہیں جلاتی ؟ چنانچہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر اس قسم کے جو اعتراضات ہو رہے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کا علم ہوا تو آپ نے کہا عجیب لوگ ہیں جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔آپ نے کہا خدا تعالی کے مامور تماشہ نہیں دکھایا کرتے اس واسطے میں خود تو یہ نہیں کر سکتا لیکن میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے حالات تم میرے لئے پیدا کرو گے تو میرے خدا نے کہا ہے کہ میں اس وقت کے حالات کے مطابق آگ میں تبدیلی پیدا کر دوں گا اور مجھے آگ نہیں جلائے گی۔پس جہاں تک قانون قدرت کا سوال ہے خدا اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا۔اور اس کے نتیجہ میں اپنے قانون کو بدل دیتا ہے اور اس میں جذب کا وہ قانون کارفرما ہوتا ہے جس