خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 15
خطبات ناصر جلد ششم ۱۵ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۷۵ء بڑا اچھا ذہن دیا اور اس کی خواہش بھی ہے کہ میں اس ذہن کے ذریعہ دنیا کے چوٹی کے دماغوں میں اپنی لائن میں جو بھی میرا دائرہ ہے دلچسپی کا ذہنی لحاظ سے، اُس میں آسمان پر پہنچوں۔اس کو خدا تعالیٰ نے یہ طاقت بھی دی اور اس کو پہچان بھی دی۔اس نے اپنے نفس کو پہچانا اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی لیکن بدقسمتی سے اس نے گپیں مارنے والے دوست بنالئے۔اب تضاد ہو گیا۔ایک طرف اس کی صلاحیتیں ہیں جو اس کو آسمان تک لے جانا چاہتی ہیں دوسری طرف اس کو گپیں مارنے کی عادت ہے جو زمین کی طرف گھسیٹ رہی ہے۔جہاں یہ تضاد پیدا ہوا نا کام ہو گیا۔اس کی ساری صلاحیتیں جو ہیں وہ ضائع چلی جائیں گی۔یہ جو خدا تعالیٰ کی ذات کا تصور ہے اللہ۔اور اللہ خدا کا اسم جامد ہے اور قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے کہ اس اسم کا یعنی اللہ کے معنے کیا ہیں۔اللہ وہ ہے جو رب العالمین ہے۔قرآن کریم کے شروع میں آیا ہے۔اسی طرح اللہ وہ ہے جو اعلیٰ ہے۔سبحان اللہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے یہ۔جس کی کبریائی ہے بڑی عجیب۔سارے قرآن کریم نے ہمیں بتایا ہے اللہ وہ ہے۔اللہ وہ ہے۔تو اللہ کی تعریف ہم خود نہیں کر سکتے ہیں۔ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جس کی ذات کی حقیقت جہاں تک انسان سمجھ سکتا تھا اور اس کی صفات کی حقیقت جہاں تک انسان کا دماغ پہنچ سکتا تھا قرآن کریم نے ہمیں بتائی اور اس پر کافی روشنی ڈالی۔اسی طرح حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو بڑی پیاری Personalities ، جو دو بنیادی جو ہر آپ کے قرآن کریم نے ہمیں بتائے جس کا میں نے ذکر بھی کیا۔اتنی دوری رہی ہم سے کہ ہم کہیں کہ ہمارے لئے اسوۃ حسنہ کیسے بن گیا۔بشر اور رسول قرآن نے کہا لیکن ہیں تمہارے لئے اُسوہ۔وہ تم میں سے ایک بشر ہے۔ایک بشر اگر اپنی استعداد کے کمال تک پہنچ سکتا ہے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو ایک دوسرا بشر اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو کیوں نہ پہنچ سکتا۔اس اسوہ کو تم Follow کرو۔اس کے پیچھے چلو۔اس کو اپنا ؤ اور اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ تو اپنے دائرہ استعداد میں تم بھی کمال کو پہنچ جاؤ۔ہر بشر کی مشابہت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم