خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 14
خطبات ناصر جلد ششم ۱۴ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۷۵ء وجود میں ایک حُسن اور ایک احسان کا بہت زبر دست پہلو نظر آتا ہے جس کے نتیجہ میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی احتیاج رہتی ہے مثلاً جلسہ کے موقع پر خدا کی جو چار بنیادی صفات ہیں اُن کو تو میں نے نہیں لیا تھا۔رب العالمین ، رحمان، رحیم، مالک یوم الدین یہ خدا تعالیٰ کی چار بنیادی صفات ہیں۔جہاں تک اس کی مخلوق ، اس عالم اور Universe ( کائنات ) کا تعلق ہے۔باقی خدا تعالیٰ کی جس قدر صفات ہیں ان کے متعلق نہ ہم کچھ کہہ سکتے ہیں نہ ہم میں اتنی طاقت ہے کہ ہم جان سکیں لیکن جن صفات کا ہمارے ساتھ تعلق ہے مخلوق کے ساتھ اور مخلوق میں سے ہم انسانوں کے ساتھ وہ قرآن کریم نے بیان کی ہیں، ان کی تفصیل ہمارے سامنے آنی چاہیے مثلاً جلسہ سالانہ پر میں نے یہ بات نہیں بتائی۔وہاں میں مختصر کرنا چاہتا تھا۔بڑی عجیب بات ہے کہ قرآن کریم نے جو اللہ تعالیٰ کی صفات بتائیں ایک تو تفصیلی ہیں اور ایک ان صفات کا ذکر ہے جن صفات کا تعلق ہر دوسری صفت کے ساتھ ہے ان کی بنیاد کے اوپر۔باقی صفات جو ہیں وہ اس بنیاد پر اُٹھیں مثلاً سورۃ الملک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری صفات میں تمہیں کوئی تضاد نہیں نظر آئے گا۔یہ ساری صفات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کا موازنہ و مقابلہ کر کے انسان کی سمجھ میں آتا ہے کہ صفات باری میں تضاد کوئی نہیں۔یا اپنے نفس میں ایک بڑا دلچسپ اور بڑا اہم اور بڑا وسیع مضمون ہے لیکن اس بنیادی صفت کے مقابلے میں ایک ذمہ واری انسان کے اوپر آ کے پڑ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ میری صفات کا مظہر بنو ، وہی رنگ اپنے اوپر چڑھاؤ۔تو بنیادی صفت خدا تعالیٰ کی یہ ہوئی کہ اس کی صفات آپس میں تضاد نہیں رکھتیں اور بنیادی ذمہ واری انسان کی یہ ہوئی کہ اس کی زندگی کے اندر بھی کوئی تضاد نہیں پایا جانا چاہیے اور میں نے بڑا غور کیا اور میرا مشاہدہ یہ ہے کہ انسان کی ناکامیوں کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی زندگی میں تضاد پایا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی اور اس صفت سے کہ خدا نے فرمایا کہ میری صفات میں تمہیں تضاد کبھی نظر نہیں آئے گا۔ایک اس کے مقابلے میں انسان کی زندگی ہوتی ، ناکام ہو جاتی مثلاً یہ تضاد : ایک نوجوان ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے