خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 16

خطبات ناصر جلد ششم ۱۶ خطبہ جمعہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۷۵ء سے اس معنی میں ممکن ہوگی۔یہ درست ہے کہ جو استعداد یں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی تھیں وہ کسی اور انسان کو نہ دیں۔اور نہ خدا تعالیٰ ہمیں یہ بتاتا ہے، ہمارانہیں یہ خدا تعالیٰ کہتا ہے۔نہ کسی اور کوملیں گی لیکن ہر انسان کے لئے اس خوشی کا امکان پیدا کر دیا اسلام نے کہ تمہیں تمہارا جو بھی دائرہ استعداد ہے، جس قسم کی جتنی طاقتوں کی تمہیں صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں ، تم اپنے دائرہ استعداد اور صلاحیتوں کے دائرہ کے اندر کمال تک پہنچ سکتے ہو جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دائرہ استعداد کے اندر اپنے کمال کو پہنچ گئے۔تمہارے لئے یہ امکان ہے اور یہ مشابہت بن جاتی ہے کہ وہ بشر ہوتے ہوئے اپنے کمال کو پہنچ گئے۔ایک زید اور بکر اور عمر اور میں اور تم جو ہیں وہ اپنے اپنے دائرہ کے اندر اپنے کمال کو پہنچ سکتے ہیں۔یہ امکان پیدا کر دیا اور بشر کی مشابہت پیدا کر دی۔دوسری طرف دوسرا بنیادی پہلو سامنے رکھا۔دو ہی بنیادی پہلو ہیں جو ابھی تک میرے ذہن میں ہیں واللہ اعلم۔وہ نور کا ہے اور اس میں اس پہلو کے لحاظ سے انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے نور کے حصول کا امکان پیدا کر دیا۔اللہ تعالیٰ سے کامل نور لائے۔کامل نور جو لائے گا اُسی کے لئے ممکن ہے کہ انسان کے سارے اندھیروں کو وہ دور کر دے۔جو خود کامل نور لے کر نہیں آیا وہ دوسروں کے اندھیروں کو کیسے دور کر سکتا ہے۔اسی لئے ہمارا عقیدہ ہے کہ جو پہلے انبیاء شریعت لانے والے یا شریعت کو قائم کرنے والے گزرے بہت گزرے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل نو ر نہیں ملا تھا جو نور محمدی تھا اس کا ایک حصہ ان کو ملا تھا۔اس لئے وہ ایک حد تک اپنے زمانہ اور حالات کے لحاظ سے اور قوموں کے لحاظ سے جن کی طرف وہ بھیجے گئے تھے، ایک حد تک انسان کے اندھیروں کو دور کر سکے۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور کامل بن کر ، سراج منیر بن کر آئے اور اس وجہ سے آپ کے ذریعہ سے یہ ممکن ہوا کہ انسان کے سارے اندھیروں کو قرآن کریم کی شریعت اور تعلیم کی رو سے اور اس کے نتیجہ میں دور کر دیا۔یہ ہزاروں لاکھوں پہلو ہیں۔کچھ اصول بتائے جائیں گے۔کچھ آپ آپس میں باتیں