خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 126 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 126

خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۶ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء سے مجھے بہت تکلیف پہنچی ہے۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ مہدی آگئے اور یہ وہ وجود ہے جس کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا۔آپ نے تاکید فرمائی کہ جن لوگوں کو اُن کا وقت پانا نصیب ہو، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اُسے سلام پہنچا ئیں۔مہدی اور اس کی عظمت کے متعلق اُمت محمدیہ کے تمام صلحاء نے وہ قصیدے پڑھے ہیں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اب میں نئی تحقیق کروارہا ہوں بہت سی نئی روایات ملی ہیں مثلاً عربی کی ایک روایت ہے فارسی کے علماء نے اس کے معنے اور تشریح اس طرح کی ہے کہ ایک اور رنگ میں مضمون سامنے آجاتا ہے۔اب اس وقت بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں عقل دی ہے اس لئے ہمیں مہدی کی کیا ضرورت ہے؟ الہام کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے نور یعنی رہنمائی کے نازل ہونے کی کیا ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ خود ہماری انگلی پکڑ کر ہمیں راہ ہدایت پر چلائے اور قائم رکھے ہمیں کسی مہدی کی ضرورت نہیں ہے ہم اپنی عقل سے کام لیں گے مگر جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے عقل کا یہ حال ہے کہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کروڑوں انسانوں کو شکر کے نظام کو درست کرنے کی ایک دوائی دی اور اب آرام سے کہہ دیا یہ تو زہر ہے اور بڑی مضر دوا ہے اسے ہاتھ نہ لگاؤ۔یہ ہے انسانی عقل کا حال کہ ایک وقت میں زہر کوتریاق سمجھتی ہے اور دوسرے وقت میں اسی تریاق کو زہر سمجھنے لگ جاتی ہے۔پس انسان کو ہر دم اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت ہے اسی لئے وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہ میں ” حَبْلُ اللہ“ کے معنے ہمارے بزرگ صلحاء (لغت کے ماہرین نے بھی اور مفسرین نے بھی ) یہ کئے ہیں کہ وہ ذرائع جو وصلِ الہی تک پہنچانے والے ہوں کہلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت امام راغب کو بڑی فراست عطا کی تھی اُنہوں نے قرب الہی کے ذرائع میں سے نمبر 1 قرآن کریم کو ٹھہرایا ہے یعنی شریعت قرآنیہ جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی۔گواصل روحانی ذریعہ تو یہی ہے مگر انہوں نے ساتھ ہی عقل کو دوسرا ذریعہ قرار دیا ہے۔عقل خدا تعالیٰ نے پیدا کی ہے اس کا بھی ایک مصرف ہے انسان اس سے فائدہ اٹھاتا ہے بشرطیکہ یہ اندھیروں میں بھٹکتی نہ پھرے بشرطیکہ اسے الہی رہنمائی حاصل رہے ورنہ جس طرح