خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 127 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 127

خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۷ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء قانون اندھا ہے اسی طرح عقل بھی اندھی ہے۔انسان کی عقل نے یہ تو تسلیم کر لیا کہ آج کا قانون جسے انسانی عقل نے بنایا ہے، وہ اندھا ہے لیکن یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ جس عقل نے اندھا قانون بنایا ہے وہ خود اندھی کیوں نہیں؟ ظاہر ہے کہ جس عقل نے ایک اندھا قانون بنا دیا ہو وہ خود بھی اندھی ہے کیونکہ نور سے اندھیرے پیدا نہیں ہوتے جہاں بھی اندھیر انظر آئے گا اُس کے منبع میں بھی اندھیرے ہی کی تلاش کرنی پڑے گی۔ہماری عقل نور کے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے یہ کہتی ہے کہ ظلمات کا سرچشمہ نور نہیں پیدا کرتا ظلمت کا سرچشمہ ظلمت ہے۔پس جو قانون عقل سے نکلا وہ اندھا ہے وہ عقل خود بھی اندھی ہے البتہ اس کے وہ پہلو جو خدا تعالیٰ کے نور سے منور ہو چکے ہوں اور اُن میں بیداری پیدا ہو چکی ہو وہ اندھے نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں یہ بنیادی اور تاکیدی حکم دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قرب کی جو راہیں ہیں اور خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے جو ذرائع ہیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے جو وسیلے ہیں اُن کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔اگر مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو پراگندہ نہیں ہو گے اور اگر مضبوطی سے نہیں پکڑو گے تو پراگندہ ہو جاؤ گے تمہارے اندر تفرقہ پیدا ہو جائے گا۔گویا اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر دو باتیں بتائی ہیں ان میں سے ایک کا تعلق قرآن کریم کی ہدایت سے ہے اور دوسری کا عقل سے۔پھر فرمایا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ - خدا تعالیٰ کا تم پر یہ احسان ہے کہ اُس نے تمہیں قرآن کریم کی شکل میں ایک ایسی ہدایت دی جس کے نتیجہ میں تمہارے دلوں میں باہمی محبت اور اخوت پیدا ہوئی اور اس کا تعلق شریعت حقہ کے ساتھ ہے لیکن چونکہ عقل انسانی سے بھی کام لینا ضروری ہے اس لئے فرمایا:۔وَلتَكُن مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ محض شريعت جو ہے یا قرآن کریم کتابی شکل میں جز دانوں میں بند کر کے رکھ دیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔عقل کے ساتھ قرآن کریم کا سمجھنا اور سیکھنا ضروری ہے۔عقل جب اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہدایت دیتا ہے اس پر عمل کرنا اور اس کے مطابق اعمال صالحہ بجالا نا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ نے شریعت دے دی لیکن شریعت پر عمل کرنا انسان کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت دعاؤں کے ذریعہ جذب