خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 125
خطبات ناصر جلد ششم ۱۲۵ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۷۵ء خطرناک دوائی ہے اس کو بالکل استعمال نہ کیا جائے۔چونکہ ڈاکٹر مجھے بھی یہ دوا دے رہے تھے اب ڈاکٹروں کا جھگڑا ہو گیا تو یہاں کے ہمارے ڈاکٹر لطیف قریشی صاحب نے انگلستان میں ایک چوٹی کے ڈاکٹر کو جو ذیا بیطس کا ماہر ہے خط لکھا کہ امریکہ کے ڈاکٹروں نے ذیا بیطس کے علاج کے متعلق یہ فتویٰ دیا ہے تم کیا کہتے ہو اس نے کہا کہ ہم تو امریکن ڈاکٹروں کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔ہم تو اب بھی یہ دوائی مریضوں کو دے رہے ہیں لیکن بہر حال احمدی کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خلافت حقہ سے بڑا پیار رکھا ہے۔مجھے امریکہ سے یہ پیغام آنے شروع ہو گئے کہ دوائی بالکل نہیں کھانی چنانچہ میں نے سوچا چلو اسے چھوڑ کر دیکھتے ہیں۔دوائی چھوڑنے کے دوتین دن بعد ٹیسٹ لیا تو دوائی استعمال کرنے کے دوران خون میں معمول کے مطابق جتنی شکر تھی اس سے بھی کم نکلی۔اب کل پھر ٹیسٹ ہے خدا کرے کہ بغیر دوائی کھانے کے اسی طرح رہے۔میں نے بتایا ہے کہ پر ہیز کرنے سے مجھے تکلیف نہیں ہوتی تھوڑی سی غذا کھا تا ہوں اور الحمد للہ پڑھ کر کھاتا ہوں اور خوب چبا کر کھاتا ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے جسم کو ہضم کرنے کی توفیق دیتا ہے اور تھوڑی غذا سے میری طاقت کو قائم رکھتا ہے لیکن اگر دوائی کی ضرورت پڑی تو پھر دو مختلف ملکوں کے ڈاکٹروں کی آراء کا اختلاف پریشانی کا باعث بھی بن سکتا ہے سوائے اس کے کہ ایک دوائی ایسی ہے جس کے متعلق سب کا یہی فتویٰ ہے کہ اس مرض کے لئے یہ بڑی اچھی دوا ہے اور وہ ہے انسولین ، جو ہمارے جسم کے غدود بناتی ہے لیکن اب یہ بھی مصنوعی بننے لگ گئی ہے جس طرح مصنوعی گھی بنا شروع ہو گیا ہے اور مصنوعی کھادیں بنی شروع ہوگئی ہیں اسی طرح انسان نے دوائیں بھی مصنوعی بنانی شروع کر دی ہیں اور وہ ٹھیک نہیں بہر حال یہ تو آئندہ کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اتنی لمبی بیماری کاٹنے کے بعد اور آج بھی ضعف کے باوجود اس بات کی توفیق دی کہ میں یہاں آؤں اور آپ سے باتیں کروں۔میں نے اس وقت جو آیات پڑھی ہیں ان میں بہت لمبا مضمون بیان ہوا ہے میں اسے بڑے اختصار کے ساتھ چند منٹ میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ان آیات کا انتخاب مجھے اس لئے کرنا پڑا کہ میری بیماری کے ایام میں ربوہ کے بعض احمدیوں کی آپس کی چپقلش اور لڑائی