خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 586
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۶ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جو صفت رَبُّ الْعَلَمِینَ بتائی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو جو قوی دیئے ہیں۔اس عالمین میں موجود ہر مخلوق کو جو استعدادیں عطا کی ہیں، اُس نے اُن کی ربوبیت کے سامان بھی پیدا کئے ہیں یعنی جہاں تک کھانے کا تعلق ہے، غذا کا تعلق ہے یا گندم اور دوسری اشیاء کا تعلق ہے، جیسے ان لوگوں کے لئے زمین پیدا کرتی ہے جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے ویسے ہی ان لوگوں کے لئے بھی پیدا کرتی ہے جن کے ساتھ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق اللہ نہیں ہے لیکن ایک ایسی دنیا بھی ہے اور ایک وہ صفات بھی ہیں جو صرف ان لوگوں پر ظاہر ہوتی ہیں ، جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔اس وقت گرمی بہت ہے چونکہ گرمی مجھے تکلیف دیتی ہے اس لئے گرمی کی وجہ سے لمبا خطبہ نہیں دے سکتا۔میں مختصراً ایک موٹی مثال دیتا ہوں جو میری آب بیتی سے متعلق ہے اور جس کے مطابق میں علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ سرور جو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت سے انسان کو حاصل ہوتا ہے، ساری دنیا کی لذتیں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔یہ وہ چیزیں ہیں جو ان لوگوں کے حق میں ظاہر ہوتی ہیں جو اس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔چنانچہ ایک دفعہ پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی ( شاید کوئی کہے گا یہ پاگل پن تھا ) میں نے یہ دعا کی کہ اے خدا! مجھے وہ لذت عطا فرما جس کا تعلق کسی مادی چیز سے نہ ہو مثلاً ایک پیاسا آدمی ہے اس کے لئے گرمیوں کے دنوں میں ٹھنڈا پانی سرور پیدا کرتا ہے پانی ایک مادی چیز ہے اسی طرح ایک بھو کا آدمی ہے اس کو کئی دن کے بعد کھانا ملے تو اسے سرور حاصل ہوتا ہے۔پچھلے سال جب سیلاب آئے تھے تو ہمارے بعض نوجوان ۳۶،۳۶ گھنٹے بھوکے رہ کر اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے اپنے علاقے کی آبادی کو محفوظ مقامات تک پہنچانے کے لئے کام کرتے رہے۔وہ جب واپس آئے ہوں گے اور اُنہوں نے کھانا کھایا ہو گا تو اُنہیں کھانے میں غیر معمولی لذت حاصل ہوئی ہوگی۔چنانچہ میں نے یہ دعا کی کہ اے میرے رب کریم ! تیرے قانون کے مطابق مادی اشیاء سے سرور حاصل ہوتے ہیں ان کا مشاہدہ کرنے کے لئے میں دعا نہیں کرتا یہ تو مجھے روز ملتے ہیں۔