خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 587

خطبات ناصر جلد پنجم ۵۸۷ خطبہ جمعہ ۷ /جون ۱۹۷۴ء اے خدا! مجھے ایسی لذت عطا فرما جس کا تعلق مادی طور پر لذت پہنچانے والی اشیاء سے نہ ہو۔خدا تعالیٰ کی شان تھی کہ دعا کرنے پر ابھی ایک گھنٹہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ میرے جسم کے روئیں روئیں میں ایک ایسی لذت اور سرور پیدا ہوا جس کی کوئی مادی وجہ نہ تھی ، صرف دعا کی قبولیت تھی۔میں اس غیر معمولی لذت اور سرور کو ۲۴ گھنٹے تک محسوس کرتا رہا یعنی میرا دل بھی اور میرا دماغ بھی میرا جسم بھی اور میری روح بھی اور میرا ذہن بھی اس سے لطف اندوز ہوتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ جو لوگ حقیقی معنے میں اللہ تعالیٰ کے عاشق ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ دونوں جہان اُن کو دے دیتا ہے مگر جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حقیقی عاشق ہیں وہ ان دو جہانوں کو لے کر کیا کریں گے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا دار کی نگاہ میں صرف دنیا ہی کا سرور ہے مثلاً اچھے کھانے اور آرام دہ گھر ہیں دولتیں ہیں آپس میں بڑی بڑی سوسائٹیاں ،مجلسیں اور کلب بنارکھے ہیں۔غرض انسان نے ہزار قسم کی لذت کے سامان بنالئے ہیں اور ان میں وہ بڑی تفصیل میں گیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندہ کو جو لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے اس رنگ میں دوسروں کو نہیں ملتا۔ویسے جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تعلق ہے مومن کو بھی اس سے حصہ ملتا ہے اور کا فر کو بھی لیکن جو سر ور خدا کا بندہ حاصل کرتا ہے وہ دوسروں کو حاصل نہیں ہوتا۔اس لئے ہم علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مبالغہ نہیں کیا بلکہ جب آپ نے یہ پیچ فرمایا کہ اے خدا! جوشخص تیرا ہو جاتا ہے۔جوشخص تیرا عاشق زار بن جاتا ہے جو شخص تیری محبت میں فنا اور تجھ پر فدا ہو جاتا ہے، اس کے سامنے تو دونوں جہان پیش کر دیتا ہے لیکن اس کے لئے یہ دونوں جہان بھی غیر ہیں وہ ان کو لے کر کیا کرے گا کیونکہ اے خدا! جب تو مل گیا جب تیرا پیار مل گیا جب تیری رضا مل گئی تو پھر کسی اور چیز کی ضرورت ہی کیا ہے۔معیت کا یہی وہ مفہوم ہے جس کا قرآن کریم نے متعدد جگہ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِینَ کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔کبھی اس کی کوئی صفت بیان کی ہے اور کبھی کوئی اور صفت بیان کی ہے۔اس وقت میں صرف دو باتوں کولوں گا۔