خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 568
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۸ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء اور مخالفانہ منصوبوں اور عذاب کے درمیان اپنی حکمتِ کاملہ سے ایک فاصلہ رکھا ہوتا ہے۔ایک زمانہ گذرتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی قہری گرفت پکڑتی ہے۔چونکہ ابھی عذاب کا وقت نہیں آیا ہوتا اس لئے شوخیوں میں یہ آگے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور چونکہ اس زمانہ میں دنیوی 66 حسنات بھی ان کو مل رہی ہوتی ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہی کو خیر “ دی گئی ہے ( اور وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بہت بزرگ ہیں ) اور دنیا کی حسنات اور دنیا کی دولتیں جو انہیں دی گئی ہیں وہ اس لئے دی گئی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے آگے تقسیم ہوں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے ام عِندَهُمْ خَزَابِنُ رَحْمَةِ رَبِّ اُن کی ذہنیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف اُن کے پاس ہیں کیونکہ جو تبعین ہیں وہ غربت کی حالت میں ہوتے ہیں وہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے ہیں وہ دھتکارے ہوئے ہوتے ہیں اور جو منکرین ہیں ان میں سے اکثر دولت اور اقتدار کے لحاظ سے بڑے بلند دنیوی مقام پر فائز ہوتے ہیں اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے صرف انہی کو مل سکتے ہیں اور دوسروں کو نہیں مل سکتے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جو خزانوں کا دینے والا ہے وہ عزیز بھی ہے۔اور وہ وھاب بھی ہے۔یہ لوگ خدائے و قاب کی رحمتوں سے جب حصہ لیتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ عزیز نہیں اور اُس کے مقرب بندے کے مقابلہ میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ خدا عزیز بھی ہے اور جب خدا تعالیٰ کا غالب ہاتھ قہر کا طمانچہ لگاتا ہے تو پھر وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا و قاب نہیں لیکن مومن خدا تعالیٰ کو وھاب بھی سمجھتا ہے اسی لئے اس کی راہ میں قربانیاں دے رہا ہوتا ہے اُسے معلوم ہے کہ جو ہم قربانیاں دیں گے خدا تعالیٰ کسی کا قرض نہیں رکھتا ان قربانیوں سے ہزاروں گنا بلکہ بے شمار گنا واپس (اسی دنیا میں بھی) کرتا ہے لیکن جو اس کے مقابلے میں اُخروی زندگی کے معاملات ہیں ان کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں۔اس زندگی اور یہاں کی حسنات اور یہاں کی لذتوں اور یہاں کے آراموں سے بہر حال وہ و قاب خدا کا عرفان بھی رکھتے ہیں لیکن اس حالت میں وہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔اُسے عزیز بھی جانتے ہیں۔اُن کے دل میں تکبر اور غرور نہیں پیدا ہوتا لیکن جو منکر ہے جس وقت خدا تعالیٰ کی رحمت کا سلوک امتحان کے طور پر اس دنیا