خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 569
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۶۹ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء میں ابتدائے مخالفت میں اس کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ خدائے وھاب کو تو پہچانتے ہیں لیکن وہی اللہ جس کی دوسری صفت العزیز بھی ہے اس کو پہچانتے نہیں اور جب خدائے عزیز کی گرفت میں آجاتے ہیں پھر یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی رحمت کا کوئی جلوہ اب ظاہر نہیں ہو گا۔جیسا کہ وہ واقعہ آتا ہے ( میں مختصر بیان کروں گا ) حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تلوار لے کر ایک شخص حملہ آور ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اُس نے پوچھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ آپ نے فرمایا میرا خدا۔اور اُس پر اتنا رعب طاری ہوا کہ تلوار اُس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور جس وقت تلوار اس کے ہاتھ سے گری تو آپ نے اپنی تلوار ہاتھ میں لے کر اُس سے پوچھا تمہیں اب میرے ہاتھ سے کون بچانے والا ہے؟ کہنے لگا آپ ہی رحم کر دیں۔وہ یہ سمجھا ہی نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اللہ تعالیٰ اپنی حفاظت کے ذریعہ بچانے والا ہے تو اُسے بھی خدا ہی بچانے والا ہے تو جو سبق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس شخص کو سکھانا چاہتے تھے وہ اس نے نہیں سیکھا اور اشارہ نہیں سمجھا۔پس مخالفین جب رحمت کا جلوہ دیکھتے ہیں تو مخالفت میں تیزی دکھاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کا عذاب چکھتے ہیں تو اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ وھاب بھی ہے۔اُس کی رحمتوں کے جلوے بھی انسان پر آتے ہیں اور نبی کی تو بعثت ہی اس لئے ہوتی ہے کہ رحمت کے جلوے انسان دیکھے تو ان کا ایک حصہ عذاب کے وقت بھی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ عذاب بار بار آتا ہے کچھ لوگ عذاب کی شکل میں آنے والے پہلے ہی امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں کچھ دوسرے جھٹکے میں ہو جاتے ہیں کچھ تیسرے جھٹکے میں ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ آخری وقت تک انتظار کرتے اور اُن کا ایک حصّہ سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ( القمر : ٤٦) کے نظارے دیکھتا اور پھر وہ فتح مکہ کی شان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھتا ہے وہاں وہ مارا جاتا ہے اور یہاں وہ کہتا ہے کہ آپ ہمیں معاف کر دیں۔فتح مکہ میں ایسا ہی ہوا۔یہ نہیں کہا کہ ہم خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور وہ ہمیں معاف کر دے گا انہوں نے کہا کہ آپ ہم پر رحم کریں اور اسی واسطے اُن کے بعض سرداروں کو بنانے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ کتنا رحم کرنے والا ہے۔میں تو ودرو