خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 567
خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء اُس کا وہ شاید آٹھ فی صد یا پانچ فی صد بھی نہ ہوں۔پھر اللہ تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کی خیر خواہی کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت فرمائی تھی جس طرح ہر نبی اور مامور کی بعثت ہوتی ہے۔ان کو ڈھیل دی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے ایک لمبے عرصہ کی گمراہی اور اندھیروں میں بھٹکنے کے بعد ان کے لئے ہدایت اور روشنی کے سامان پیدا کئے اور وہ ایمان لائے۔پھر جو باقی بچے ان میں س إِلا مَا شَاءَ الله فتح مکہ کے وقت سب ایمان لے آئے اور ان میں خدا تعالیٰ نے بڑا اخلاص پیدا کیا اور بعد میں جو خلافتِ راشدہ کے زمانہ میں اس وقت کی دو بڑی طاقتوں کے خلاف مسلمانوں کو اس لئے لڑنا پڑا کہ وہ حملہ آور ہوئے تھے اور اسلام کو مٹانے کے منصوبے بنا رہے تھے اُس زمانہ میں میدان جنگ میں انہوں نے اس قسم کی مخلصانہ قربانیاں دی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔پس اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے معا بعد خدا تعالیٰ کے قہر کی گرفت اہل مکہ پر ہو جاتی تو یہ مخلصین ہدایت ملنے سے پہلے ہی دوزخ کا ایندھن بن جاتے۔نبی کی بعثت ہلاکت کے لئے نہیں ہوتی۔ہلاکت کا سامان تو مخالف خود اپنے ہاتھ سے پیدا کرتا ہے وہ تو بھلائی اور خیر خواہی کے لئے آتا ہے اور جنتوں کے دروازے ان کے لئے کھولنے آتا ہے لیکن بعض بد بخت قبل اس کے کہ ان کو ہدایت ملے اللہ تعالیٰ کی ہلاکت کی گرفت میں آجاتے ہیں اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو ایک لمبا عرصہ کی مخالفت کے بعد ایمان کی دولت سے متمتع ہوتے ہیں ایمان لاتے ہیں اور پھر ان کے دل میں اخلاص پیدا ہوتا ہے۔وہ اخلاص قربانیوں کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نتیجہ میں اس کی جنتوں کے وارث ہو جاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بھی جو میں نے مختلف مقامات سے لی ہیں۔تین آیات سورہ ص کی ہیں اور ایک سورہ مومن کی ہے جو ایک مضمون کی کڑیاں ہیں وہ میں نے یہاں ملائی ہیں۔یہاں یہی بتایا گیا ہے کہ جب مخالفت شروع ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے نبی یا مامور کی تو اس وقت ڈھیل دی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ چونکہ ہم ڈھیل دیتے ہیں اس کے نتیجہ میں تم یہ سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ و قاب تو ہے مگر عزیز نہیں ہے اور شوخیوں میں بڑھ جاتے ہو۔ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے بعثت نبوی