خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 555
خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء کے زمانہ میں بھی اُمت محمدیہ کی شان اتنی عظیم ہے کہ کوئی اور گروہ مقتر بین جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہوا وہ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن جیسا کہ وعدہ دیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں بھی ہمیں یہ بشارت دی گئی تھی کہ اس امت کے آخری حصہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسا فدائی پیدا ہو گا جو مسیح اور مہدی (علیہ السلام) کا لقب پائے گا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ اندھیروں کے خلاف شیطانی طاقتوں کے خلاف جو جنگ شروع ہوئی اس کا آخری معرکہ اس نے اور اس کی جماعت نے سر کرنا ہے۔اور ان کی قربانیاں اور ان کے ایثار اور ان کی جاں نثاری اور ان کی دین کے لئے فدائیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد اور مشن کے لئے ان کا فنا ہو جانے کا جذ بہ صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا جلتا ہوگا۔یہ بشارتیں تھیں جو امت محمدیہ کو دی گئیں یہ قوم تھی جس نے پیدا ہونا تھا۔جس نے علی وجہ البصیرت فانی اشیاء کو دے کر دنیا کی دوستیں دنیا کے مال، دنیا کی عزتیں اور دنیا کے اقتدار اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے ایک ابدی لذت اور سرور کے حصول کے لئے اس نے کوشش کرنا تھی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل سے اُسے حاصل کر لینا تھا۔یہ جماعت قائم ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو یہ اس رنگ میں جذب کر رہی ہے اُسی کی توفیق سے وہ رنگ اتنا حسین اور اس کی شان اتنی عظیم ہے کہ مخالف حیران ہوتا ہے اور ہماری گردنیں تو جھکتی ہوئی (اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی رحمتوں کو دیکھ کر ) زمین کے ساتھ لگ جاتی ہیں۔ہر روز ہی ہم یہ نظارہ دیکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا تھا:۔تیری نعمت کی کچھ قلت نہیں ہے تہی اس سے کوئی ساعت نہیں ہے شمار فضل اور رحمت نہیں ہے مجھے اب شکر کی طاقت نہیں ہر آن ، ہر مہینہ، ہر سال ہمیں یہ نظارہ نظر آتا ہے اس سال اس قسم کے نظاروں میں سے 66۔ہے ایک یہ ہے کہ گذشتہ ماہ ۱/۵ پریل کو جمعہ کے روز میں نے فذكر “ کے حکم کے ماتحت جماعت کو اس طرف توجہ دلائی کہ آپ نے مجلس شوری میں سر جوڑ کر ہر ضلع اور تحصیل اور بڑے شہر اور قصبوں