خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 554
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۵۴ خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء کہ جو اس حقیقت وصداقت پر علی وجہ البصیرت قائم تھیں، قائم رہی ہیں اور آئندہ بھی جماعت احمد یہ میں یہ جماعتیں نسلاً بعد نسل پیدا ہوتی رہیں گی انشاء اللہ تعالی۔پھر یہ جماعت یہ امت جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہوتی ہے اس کی شان ہی کچھ نرالی ہے اور پہلی امتیں جہاں اُن کا دائرہ عمل محدود، جہاں اُن کی تعلیم وقتی اور زمانی تھی اُسی کے مطابق اُن کی کوششیں تھیں ، اُن کی قربانیاں تھیں۔خدا کی راہ میں اُنہوں نے تکالیف برداشت کیں اور لافانی نعمتوں کے حصول کے لئے وہ فانی چیزوں کو خدا کے حضور پیش کرتے رہے۔یہ ٹھیک ہے لیکن اس سلسلہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی شان بڑی عظیم اور دوسروں کے مقابلہ میں نرالی ہے۔جب ہم اُمت کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اس عظمت اُمت مسلمہ کا عظیم جلوہ اُمت کے اندر صحابہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گروہ میں ہم دیکھتے ہیں۔پھر اس کے ساتھ ملی ہوئی نسلوں نے پہلی تین صدیوں میں اتنی عظیم قربانیاں دی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انہوں نے وہ قربانیاں اس لئے دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اور قرآنِ کریم کی ہدایت کے نتیجہ میں علی وجہ البصیرت وہ اس مقام پر کھڑے تھے کہ اس دنیا کی دولتیں بھی اور اس دنیا کی عزتیں بھی اور دنیاوی اقتدار بھی فانی ہے اور ہم نے اللہ تعالیٰ سے جو حاصل کرنا ہے اور جس کی ہم اُمید رکھتے اور جس کے لئے ہم نے دعا اور تدبیر سے کوششیں کرنی ہیں وہ ایک لافانی اور ایک نہ ختم ہونے والا رزق ہے۔اس کے بعد اگر چہ اُمت میں وسعت پیدا ہوئی اور اگر چہ بعض مقامات پر بعض زمانوں میں تنزل کے حالات بھی پیدا ہوئے لیکن پھر بھی اس اُمت کے وہ بزرگ ، خدا تعالیٰ کے وہ پیارے جو اپنے پیدا کرنے والے رب سے پیار کرنے والے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور فدائی تھے انہوں نے اسی مقام پر کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانیاں پیش کیں کہ جو پیش کر رہے ہیں وہ فانی اور لایعنی اور نا قابل اعتبار چیزیں ہیں اور جن اشیاء کے ملنے کا وعدہ ہے۔اس کے متعلق کہا گیا کہ مَا لَهُ مِنْ تَفَادٍ۔اس میں کمی نہیں آتی۔اس میں ضعف نہیں پیدا ہوتا۔کہیں جا کر اس نے ختم نہیں ہو جانا۔وہ ابدی رزق ہیں ، وہ ابدی نعماء ہیں۔وہ ہمیشہ رہنے والا پیار ہے جو انسان اپنے رب کی نگاہ میں دیکھے گا۔بہر حال اس تنزیل