خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 556 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 556

خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۱۰ رمئی ۱۹۷۴ء سے نمائندے بھجوا کر مجوزہ بجٹ پر غور کیا اس پر بخشیں کیں۔کمیٹی میں وہ بجٹ گیا پھر آپ نے ایک بجٹ بنایا اور اس کے مقابلہ میں خرچ کی راہوں کی تعیین کی کہ اتنی رقم اس حصہ میں خرچ ہوگی (اُس وقت میں نے کہا تھا کہ ) اب قریباً ایک ماہ رہ گیا ہے لیکن آپ کے بجٹ میں ساڑھے چھ لاکھ روپے کی کمی ہے دفتر بعض دفعہ گھبرا جاتا ہے لیکن چونکہ میں اپنے بھائیوں اور دوستوں کے اخلاص سے واقف ہوں اس لئے مجھے میں گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی لیکن یاد کرانا فذكر “ کے حکم کے مطابق ضروری سمجھتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ جماعت ایک ایسی جماعت ہے جس کا قدم کبھی پیچھے نہیں ہتا لیکن دعاؤں کی ضرورت ہے میں دعائیں کرتا ہوں۔جماعت بھی دعائیں کرتی ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ بجٹ پورا ہو جائے گا۔بہر حال ۱/۵ پریل کو ساڑھے چھ لاکھ کی کمی تھی اور آج جماعت نے (ابھی کچھ رقمیں جمعہ کے بعد بھی وصول ہونے والی رہتی ہیں ) محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے وہ ساڑھے چھ لاکھ بھی پورا کیا اور اُس سے زائد ساڑھے تین لاکھ روپے کی رقم بھی بھجوادی۔فَالْحَمْدُ لِلّهِ عَلى ذلِكَ یہ رقم مجوزہ بجٹ سے قریباً آٹھ فیصد زائد ہے، میں نہیں کہہ سکتا کہ جمعہ کے بعد کس قدر وصولی ہوگی۔ہمارا وصولی کا سال ۱۰ رمئی کو ختم ہوتا ہے پس یہ نہیں کہ یہ ایک سال اور دس دن کی رقمیں ہیں۔یہ پورے سال کی رقمیں ہیں پچھلے سال بھی ۱۰ رمئی تک جو رقوم موصول ہوئی تھیں وہ اس سے پچھلے سال کے اندر پڑ گئی تھیں اور اس سال بھی دس مئی تک کی مہلت دی گئی تھی تا کہ پورا سال ہو جائے اس لئے کہ یکم کو تنخواہیں ملتی ہیں آمدنیاں ہوتی ہیں بعض تاجروں کو بھی یکیم دو کو پیسے دینے کی عادت ہو گئی ہے۔وہ رقوم دراصل پچھلے مہینے کی ہیں اللہ تعالیٰ کتنا فضل کرنے والا ہے کمی تھی اور جب جماعتوں کو احساس دلایا گیا تو ایک مہینے میں دیوانہ وار اُنہوں نے مالی قربانیاں دیں۔میں بتاتا رہتا ہوں کہ ہماری جماعتی زندگی کا اصل مقصد مالی قربانی نہیں یہ تو ذریعہ ہے دوسرے مقاصد کے حصول کا۔جماعت غلبہ اسلام کی جدو جہد کے دیگر میدانوں میں اس سے کم قربانی نہیں دیتی بہر حال ہر میدان میں قدم آگے ہے تو (ساڑھے چھ لاکھ جمع ساڑھے تین لاکھ ) دس لاکھ کی رقم اس عرصہ میں جماعت نے انتہائی بشاشت کے ساتھ دی ہے اور ابھی مجھے ناظر بیت المال