خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 13

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء اس کے اندر جس پائی جاتی ہے۔گو جتنے جاندار ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے وجود کے لحاظ سے اور جس مقصد کے لئے انہیں پیدا کیا گیا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے مختلف قسم کی حسیں دی ہیں اس میں بڑا تنوع ہے۔ہمیں اس میں اللہ تعالیٰ کی شان نظر آتی ہے اور جب انسان کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو قرآن کریم نے اس کے دو معنی کئے ہیں اور مفردات میں امام راغب نے اس کے جو معنی کئے ہیں وہ دونوں قسم کی حیات پر لگ جاتے ہیں یہ کہ (۱) جس میں عقل ہو اور (۲) قوت عمل ہو۔سمجھ کے ساتھ عقل کے ساتھ اپنے تجربہ اور مشاہدہ کے نتیجہ میں کچھ نتائج اخذ کر کے اور اصول بنا کر انسان اعمال کرے یہ زندگی ہے۔پس کسی معنی میں بھی زندگی کو لیں۔ایک بادشاہ کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ کا وہ بادشاہ کیا، آج کے زمانہ کی ساری حکومتیں بھی حیات اور موت اس معنی میں پیدا نہیں کرسکتیں چونکہ وہ حیات کو پیدا نہیں کر سکتے اور موت اس رنگ میں حیات کی نفی ہے لہذا موت بھی پیدا نہیں کر سکتے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو سمجھانے کے لئے مذہب ، جو اصل مقصد تھا، کی طرف لے آئے اور کہا دیکھو اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کی دو اصولی جلوہ گا ہیں نظر آ رہی ہیں۔ایک تو مادی دنیا میں مثلاً سورج ہے یہ اللہ تعالیٰ کے نور کی آماجگاہ ہے۔اللہ تعالیٰ کا نور اللہ تعالیٰ کی سمت سے اُٹھتا ہے اور اس سورج کے لئے مشرق بنا دیتا ہے اور (۲) روحانی طور پر اس کے نور کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں اور بنی نوع انسان کے لئے روحانی مشرق بن جاتی ہے جیسا کہ سورہ رحمن میں اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ میں رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ اور رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ہوں یعنی مادی دنیا کی جو مشرق ہے اس کا رب بھی میں ہوں اور روحانی دنیا کی جو مشرق ہے اس کا رب بھی میں ہوں اور جسمانی دنیا کی جو مغرب ہے یعنی روشنی کا فقدان اور سورج کا ڈوب جانا، وہ بھی میرے حکم اور منشا سے، اور میرے منصوبہ کے ماتحت اور میری مصلحت سے ہوتا ہے اور روحانی طور پر اندھیروں کے پائے جانے کے اصول بھی میں نے وضع کئے ہیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس بادشاہ کو فرمایا کہ دیکھو میرا رب تو سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے یعنی روشنی کو وہاں سے نمودار کرتا ہے۔تم سورج کو اپنے اندھیروں سے طلوع کر