خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 14

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۴ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء کے دکھا دو یہ بڑا لطیف مضمون ہے۔انہوں نے فرمایا کہ میرے رب نے اپنی نورانی تجلی سے مجھے اپنے نور کی جلوہ گاہ بنا دیا ہے۔سورج میرے وجود میں روحانی افق پر طلوع ہو گیا تم اندھیرے میں ہو تم پر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اصول کے مطابق روحانی روشنی کا سورج غروب ہو چکا ہے۔تو تم روحانی طور پر اپنے اس مغرب کو مشرق بنا دو اور اگر تمہارے اندر رب کی طاقت ہے تو نور کا وہ جلوہ ظاہر کرو اور اپنی فضا کے اندھیروں کو دور کرو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس رنگ میں بات کی ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس نکتے کو سمجھا یا نہیں بہر حال اس کا جو ظاہر تھا اس نے اسے ہرا دیا۔جیسا کہ فرما یا فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ پس اس آیت میں بہت سی حقائق زندگی بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ کہ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ (التغابن : ٢) که حقیقی بادشاہت اور سلطنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے اپنی اس حقیقی بادشاہت میں سے ظلی طور پر کسی مخصوص اور کسی محدود زمانے میں اور کسی معین جگہ پر کسی کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔چنانچہ فرما یا توتى المُلكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ (ال عمران: ۲۷) اور دوسرے یہ کہ جب بادشاہ اور سیاسی طور پر صاحب اقتدار ہونا کسی کے اپنے ہاتھ میں نہیں اور نہ کوئی اپنی طاقت اور کوشش سے ہو سکتا ہے تو بادشاہ کو کسی قسم کا تکبر اور غروراختیار کرنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ جو اس کو ملا اس کی اپنی قوت، طاقت ، زور اور منشا کے مطابق نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کے نتیجہ میں اس کو ملا۔ایک اور بات اس سے یہ کھلتی ہے کہ جب اپنے بنائے ہوئے اصول کے مطابق بادشاہت نہیں ملی تو شاہی اختیار اس دائرہ کے اندر محدود ہو گا جو کہ اختیار دینے والے نے کھینچ دیا۔جیسا کہ فرما یا آن الله الله الملك (البقرة : ۲۵۹) پس جب اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اقتدار دیا ہے تو بادشاہت کے اختیار کی تعیین اور حد بندی بھی اللہ تعالیٰ ہی کرے گا۔دُنیا میں جو ڈکٹیٹر ( آمر ) ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے بادشاہت پر اپنے زور سے اور اپنی فوج کے زور سے قبضہ کیا ہے اور وہ اپنے لئے خود قانون بناتے ہیں۔جہاں جمہوریت ہے وہاں عوام کہتے ہیں جو قانون ہم دیں گے اس کے مطابق حکومت کو کام کرنا ہوگا یا اگر Democracy Representative ہے یعنی عوام