خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 12 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 12

خطبات ناصر جلد پنجم ۱۲ خطبہ جمعہ ۱۹ / جنوری ۱۹۷۳ء کی یا اس کے تصرف کی یا اس کی نصرت اور اس کی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور اس طرح اس نے سلطنت میں انکساری پیدا کرنے کی بجائے غرور پیدا کیا۔اتنا غرور کہ جس نے انسان کو پاگل کر دیا اور وہ خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو گیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے سمجھانے کے لئے کہا کہ دیکھو زندگی اور موت کا سلسلہ جو ہمیں اس دنیا میں نظر آتا ہے۔اس پر ہمیں انسانی تصرف نظر نہیں آتا۔وہ انسان کے اختیار میں نہیں اس لئے ہمیں ایک بالا ہستی کا وجود تسلیم کرنا پڑے گا۔جو متصرف بالا رادہ اور قادر مطلق ہو اور جس کے متعلق ہم یقین کریں کہ زندگی اور موت کا سلسلہ اسی نے جاری کیا۔ایسے لوگ صرف دین سے ہی بے بہرہ نہیں ہوتے۔دُنیوی لحاظ سے بھی انہیں حقیقت اشیاء کا علم نہیں ہوتا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے دلیل یہ دی گئی تھی کہ موت وحیات رب رحیم کے اختیار میں ہے اور جواب اس شخص نے یہ دیا کہ میں اس سلطنت کا مالک ہوں جو میرے ملک میں زندہ ہے وہ اس لئے زندہ ہے کہ میں نے اسے مارنے کا فیصلہ نہیں کیا اور اسے مارنے کا حکم نہیں دیا ور نہ جس کو میں چاہوں مروا سکتا ہوں اور مروا دیتا ہوں۔تو جو چیز تم رب کی طرف منسوب کر رہے ہو، وہ میرے اندر بھی پائی جاتی ہے یعنی جو زندہ ہے وہ اس لئے زندہ ہے کہ میں اسے مار نہیں رہا اور جسے میں مارنا چاہوں اسے میں مار دیتا ہوں پس زندگی اور موت میرے اختیار میں بھی اسی طرح ہے جس طرح تم سمجھتے ہو کہ رب کے اختیار میں ہے۔یہ جہالت کا جواب تھا۔یہ جواب اس لاعلمی اور جہالت کے نتیجہ میں دیا گیا کہ زندگی اور موت کہتے کسے ہیں؟ 66 حیات کا لفظ قرآن کریم نے جن معانی میں استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر یہ لفظ نبات وغیرہ قسم کی چیزوں کے لئے بولا جائے تو اس کے معنی ہیں کہ ان میں قوت نمونشو ونما کی طاقت پائی جاتی ہے اور ساری دنیا کے بادشاہ مل کر بھی کسی چیز میں جو نبات کی قسم کی ہو یہ زندگی پیدا نہیں کر سکتے اگر چہ اب پلاسٹک کے تنکے بن گئے ہیں۔ان سے مصنوعی پھول کی جھاڑی سی بنا کر بعض دوکاندار پھولوں سے لدی ہوئی ایک چیز بنا دیتے ہیں لیکن اس میں نمو کی طاقت نہیں ہوتی اور نہ پیدا کی جاسکتی ہے اور جب حیات کا لفظ حیوان کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ