خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 101 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 101

خطبات ناصر جلد پنجم 1+1 خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء پر کئی سال گزر چکے ہیں، میرے والد کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے اپنے لڑکوں کو بلایا اور ہمیں وصیت کی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ امام مہدی ظاہر ہو چکا ہے میرا باپ وصیت کرتے وقت زارو قطار رو رہا تھا کہ میں بد قسمت انسان ہوں۔مجھے امام مہدی کی شناخت کا شرف حاصل نہیں ہوا۔مجھے ان کا پتہ نہیں لگ سکا اس لئے میں تمہیں (اپنے بیٹوں کو ) یہ وصیت کرتا ہوں کہ تم جب بھی امام مہدی کا ذکر سنو فوراً بیعت کر لینا اور ان کی جماعت میں شامل ہو جانا۔اب بتاؤ کیا یہ کسی مبلغ کا کارنامہ ہے؟ نہیں ! یہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو آسمانوں سے نازل ہوتے اور دلوں میں تبدیلی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ تو انشاء اللہ ہوتا چلا جائے گا تاہم خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ دین متین اسلام کی تبلیغ کرتے رہا کرو تمہیں ثواب دے دیا کروں گا یہ کام تو دراصل خدا کا ہے وہ کر رہا ہے۔میں یہ بتارہا ہوں کہ دنیا جہان کے علمائے ظاہر نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین روحانی فرزند جلیل پر کفر کے فتوے لگائے مگر خدا تعالیٰ نے ان کفر کے فتوؤں کو قبول نہیں کیا اگر وہ انہیں قبول کر لیتا تو احمدیت کو مٹانے کے لئے ایک آدمی کا فتویٰ کا فی تھا پس اگر چہ احمدیت کو مٹانے کے لئے ساری دنیا اکٹھی ہو گئی۔غلبہ اسلام کی مہم کو نا کام کرنے کے لئے ایک جہان جمع ہو گیا لیکن خدائے قادر و توانا کے دست قدرت سے جاری ہونے والی مہم کی راہ میں نہ دنیا کے جتھے ، نہ دنیا کے اموال اور نہ لوگوں کے فتوے روک بن سکے یہ ہم روز افزوں ترقی پر ہے۔پس یہ تو صحیح ہے مگر دوست اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ اس مقصد کے لئے ہم سے قربانی کی جائے گی اور وہ ہمیں دینی پڑے گی لیکن دنیا کی کوئی طاقت غلبہ اسلام کی اس مہم کو نا کام نہیں بنا سکتی۔نہیں بناسکتی۔نہیں بنا سکتی۔یہ تو انشاءاللہ کبھی نہیں ہوگا کیونکہ خدا اپنے وعدوں کا سچا ہے وہ اپنے وعدے ضرور پورے کرے گا یہ تو پیار کا ایک عظیم سلوک ہے تاہم جہاں پیار کی تقسیم کا سوال پیدا ہوتا ہے وہاں بعض شرائط رکھی جاتی ہیں۔چنانچہ خدا نے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ تم قربانی دو۔اپنی بساط کے مطابق ایثار دکھاؤ اور مجھ سے پیار کرو اپنی قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے صرف مجھ سے ڈرو کسی اور سے نہ ڈرو۔چنانچہ احمدیت کے خلاف ساری دنیا اکٹھی ہوگئی مگر احمدی کہاں اور