خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 100 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 100

خطبات ناصر جلد پنجم خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء ہندوستان کے چوٹی کے دوسو علماء نے آپ پر کفر کا فتو ی لگایا۔آپ کے گھر دوسو چوٹی کے علماء کے کفر کے فتوے تو تھے لیکن آپ کے گھر میں کوئی احمدی نہ تھا کیونکہ ابھی آپ نے بیعت لینی شروع نہیں کی تھی۔ابھی آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ملا تھا۔پھر دیکھو وہ جو پہلے دوسو تھے اتنی سال میں ہزاروں ہو گئے بالفاظ دیگر دو سوفتوے ہزاروں فتوؤں کا رنگ تیار کر گئے مگر وہ جوا کیلا تھا جس کے ساتھ شروع میں ایک بھی احمدی نہ تھا اس کی آواز جو قرآنِ کریم کے عشق میں ڈوبی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیار سے لبریز ہے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی محبت میں سیچوریٹڈ (Saturated) ہے یعنی ایسی محبت جس سے زیادہ محبت ہو ہی نہیں سکتی۔یہ آواز ساری دنیا میں گونج رہی ہے اور کفر کے فتوے اس کی گرد کو بھی نہیں پاسکے۔وہ لوگوں کو خوابوں کے ذریعہ بتا تا ہے ان کی عقل و فراست میں ایک چمک اور نور پیدا کرتا ہے اور انہیں مسئلے سمجھ آجاتے ہیں۔چنانچہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار بتایا ہے یہ اسی چمک کا نتیجہ تھا کہ افریقہ کے ایک بہت بڑے افسر کے دل میں خیال پیدا ہوا۔اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ہمارا یہ اندازہ ہے کہ دس سال تک ہمارے ملک میں احمدیوں کی اکثریت ہو جائے گی، جب اکثریت احمدیوں کی ہوگی اس وقت تم نے بیعت کی تو کیا فائدہ؟ اس واسطے تم ابھی جا کر بیعت کر لو۔اب یہ کوئی عقلی دلیل تو نہیں البتہ فراست کی ایک چمک ضرور ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے دماغ میں یہ بات ڈالی اور اس نے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت کی۔عرب کے ایک ملک میں ایک جگہ ایک شخص اپنے دوساتھیوں کے ساتھ ایک احمدی دوست سے ملا۔اس احمدی دوست نے جب احمدیت کے متعلق باتیں کیں تو اس نے کہا میری بیعت لو۔ہمارے اس دوست نے کہا تمہیں احمدیت کا کچھ پتہ نہیں تم نے سلسلہ کی کتابیں نہیں پڑھیں احمدیت قبول کرنے کے بعد بڑا شور مچتا ہے۔راستے میں کانٹے بکھیرے جاتے ہیں یہ پھولوں کی کوئی بیج تو نہیں جس پر تم نے لیٹنا ہے اس لئے پہلے مجھ سے کتابیں لو ان کو پڑھو، سوچو اور دعائیں کرو۔پھر شرح صدر کے بعد بیعت کرو۔وہ کہنے لگا کہ نہیں ! میں نے ابھی بیعت کرنی ہے اور اس کی ایک وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ میں ایک دوسرے ملک کا رہنے والا ہوں میرے والد کی وفات