خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 667
خطبات ناصر جلد پنجم ۶۶۷ خطبه جمعه ۲ را گست ۱۹۷۴ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کا تعلق رحیمیت سے ہے اور نیکوں کی کوششوں کو نقص سے پاک کرنا اور اچھے نتائج نکالنا یہ رحیمیت کا کام ہے۔انسان خواہ کتنا ہی جہاد خدا کی راہ میں کر رہا ہواور محاسبہ نفس کر رہا ہو اس کے اعمال میں تھوڑا یا بہت نقص رہ جاتا ہے اور عام قانون یہ ہے کہ تھوڑا یا بہت نقص رہ جائے تو انسان منزلِ مقصود تک پہنچ نہیں سکتا مثلاً ایک موٹی مثال میں اس وقت دیتا ہوں جسے بچے بھی سمجھ جائیں گے کہ ایک شخص نے سو قدم چل کر وہاں پہنچنا ہے جہاں اُس کا مقصوداُ سے حاصل ہوسکتا ہے۔اگر وہ نانوے قدم چلے اور سواں قدم نہ چلے تو وہ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔تو صرف ایک قدم کی کمی ہے ننانوے قدم اُس نے اُٹھائے ہیں لیکن ایک قدم نہیں اُٹھا سکا اس لئے وہ اپنے مقصود کو نہیں پاسکتا۔پس ہر انسان کی کوشش اور عمل صالح میں کوئی نہ کوئی کمی اور غفلت رہ جاتی ہے۔اس وقت رحیمیت آتی ہے اور انسان کی انگلی پکڑتی ہے اور کہتی ہے جو قدم تو نے نہیں اُٹھایا وہ میں تمہیں اُٹھا دیتا ہوں اور اُس کے عملِ صالح کی کفیل ہو جاتی ہے۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہی دعا سکھائی ہے کہ وہ سیدھا راستہ ہمیں دکھا جو منزل مقصود تک پہنچانے والا ہو۔جس کا مطلب ہے کہ سارے قدم اور ساری کوششیں انتہا تک پہنچانے والی ہمیں نصیب ہوں۔اس کے بغیر تو کوئی دو قدم سیدھا چل کر ، کوئی ہیں قدم سیدھا چل کر ، شاید کوئی ننانوے قدم سیدھا چل کر بھی اپنے عمل کے نتیجہ سے محروم ہو جاتا ہے پس یہاں بتائی گئی تین دعاؤں کے نتیجہ میں انسان کو ایک طرف ان تمام نقائص اور کمزوریوں سے محفوظ رکھنے کا سامان پیدا کیا گیا جو اس کی کوششوں کو بے نتیجہ اور بغیر شمر کے بنا دیتی ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی انگلی پکڑ کر انتہائی کامیابی تک پہنچانے کے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں سامان پیدا کر دیئے۔یہ مضمون بیان کرنے کے بعد آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ تفصیلی اور فروعی ذمہ داریوں کی طرف ہمیں توجہ دلائی ہے۔وہ چند ہدایات میں پڑھ دیتا ہوں۔یہ ان باتوں کا ایک قسم کا خلاصہ ہے جو باتیں میں نے بیان کی ہیں۔