خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 668 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 668

خطبات ناصر جلد پنجم ۶۶۸ خطبه جمعه ۲/اگست ۱۹۷۴ء ( ترجمہ ) اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ کسی بندہ کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اُس وحده لا شریک سے توفیق پانے کے بغیر عبادت کا حق ادا کرے اور عبادت کی فروع میں یہ بھی ہے (میں نے بتایا تھا کہ آپ نے یہاں عبادت کی فروع بتائی ہیں ) کہ تم اُس شخص سے بھی جو تم سے دشمنی رکھتا ہوا ایسی ہی محبت کرو جس طرح اپنے آپ سے اور اپنے بیٹوں سے کرتے ہو اور یہ کہ تم دوسروں کی لغزشوں سے درگذر کرنے والے اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کرنے والے بنو اور نیک دل اور پاک نفس ہوکر پرہیز گاروں والی صاف اور پاکیزہ زندگی گزارو اور تم بُری عادتوں سے پاک ہوکر باوفا اور باصفا زندگی بسر کر واور یہ کہ خلق اللہ کے لئے بلا تکلف اور تصنع بعض نباتات کی مانند نفع رساں وجود بن جاؤ اور یہ کہ تم اپنے کبر سے اپنے کسی چھوٹے بھائی کو دُکھ نہ دو اور نہ کسی بات سے اس (کے دل ) کو زخمی کرو بلکہ تم پر واجب ہے کہ اپنے ناراض بھائی کو خاکساری سے جواب دو اور اسے مخاطب کرنے میں اس کی تحقیر نہ کرو اور مرنے سے پہلے مر جاؤ اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر لو اور جو کوئی ( ملنے کے لئے ) تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرو خواہ وہ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ہو نہ کہ نئے جوڑوں اور عمدہ لباس میں اور تم ہر شخص کو السلام علیکم کہو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہواور ( لوگوں کی ) غم خواری کے لئے ہر دم تیار کھڑے رہو۔“ پس میں نے مختصر آ ہی تین اصولی باتیں بیان کی تھیں۔ایک یہ کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہر آن یہ کوشش کرتے رہیں کہ تَخَلُّق بِأَخْلَاقِ اللہ کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ سے ہمارا وجود رنگین ہو اور ریا کاری ہماری زندگی میں داخل نہ ہو۔دوسرے یہ کہ ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے اُن رحمانیت کے جلوؤں سے ہمیں نوازے جن کی ہمیں ذاتی جدو جہد کے لئے ضرورت ہے۔تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ تو فیق عطا کرے کہ ہم اُسی کی عطا کردہ قوتوں اور استعدادوں کو اُس کے قرب اور اُس کی رضا کے حصول پر لگا ئیں تو وہ خود ہماری رہنمائی کرے اور ہمیں صراط مستقیم دکھائے اور اُس پر چلنے کی اور انتہا تک پہنچنے کی تو فیق عطا