خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 658 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 658

خطبات ناصر جلد پنجم ܬܪ خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء اس میں ایک حُسن اور خوبصورتی باقی رہتی ہے۔گو برسات کی جو خوبصورتی اور حسن ہے وہ مقابلہ زیادہ ہے لیکن یہ تو نہیں ہوتا کہ وہ درخت ٹنڈ منڈ ہو جاتا ہے۔طوفان اور خشکی کے زمانہ میں بھی پہلے پتوں میں جان ہوتی ہے۔اس کے اندر ایک روح ہوتی ہے۔اس میں اس وقت بھی جب اُسے تھوڑا سا موقع ملے تو وہ نئے پتے نکالتا ہے اس کے اوپر نیا سبزہ آتا ہے۔ٹھیک ہے پھر طوفان جب درخت کی خشک ٹہنیاں تو ڑ کر نیچے پھینک دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بادل اس پر اپنی بارش برساتے ہیں تو اس کا رنگ بدل جاتا ہے۔پس ہماری جو خوشیاں اور بشاشتیں ہیں وہ اس لئے نہیں تھیں کہ ہم اپنی ماں کے پیٹ سے کچھ خوبیاں لے کر پیدا ہوئے تھے بلکہ ہماری مسکراہٹیں اس بات کی مرہون منت تھیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ تم خوش ہو جاؤ کہ اسلام کے غلبہ کے دن آگئے۔اسلام کے بہار کے دن آگئے۔اسلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے بادلوں کے برسنے کے دن آگئے۔چنانچہ اب وہ زمانہ آ گیا جب ساری دنیا پر اسلام غالب ہو گا مگر ان لوگوں کو جو خود کو مہدی معہود کی طرف منسوب کرتے ہیں اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے انہیں قربانیاں دینی پڑیں گی اس مادی دنیا میں آسمانوں سے فرشتے نازل ہو کر خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت نہیں کیا کرتے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا بزرگ وجود جس کا ثانی نہ دنیا میں کبھی پیدا ہوا اور نہ ہوگا اُن سے بھی جب کفار مکہ نے کہا کہ اے محمد ! اگر تم سچے ہو تو تمہاری مدد کے لئے آسمان سے فرشتے نازل کیوں نہیں ہوتے؟ آپ نے فرمایا فرشتے نازل تو ہوں گے لیکن اُنہیں تمہاری آنکھ نہیں دیکھ سکے گی۔تمہاری آنکھ تو صرف ان مادی ، ٹوٹی ہوئی ہلتی اور بالکل بے بھروسہ تلواروں کو دیکھے گی لیکن تمہاری آنکھ جو نتیجہ دیکھے گی اُس کے لئے تمہیں ماننا پڑے گا کہ وہ فرشتوں کے دخل کے بغیر ممکن نہ تھا۔پس ہم اپنی قضاء وقدر کے ابتلا کے نتیجہ میں یا مصیبتوں کے اوقات میں مایوس کیسے ہو سکتے ہیں۔کیا ہم نے اپنے زور سے یا اپنی طاقت سے اسلام کو غالب کرنا تھا یا اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ میں اس زمانہ میں ایسا کروں گا۔پس گو وعدہ تو اللہ تعالیٰ کا ہے لیکن وہ ہم سے