خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 657
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء مہدی معہود کا یہی وہ زمانہ ہے جس میں شیطانی ظلمات کے ساتھ آخری اور شدید جنگ لڑی جائے گی۔بدعات کی بھر مار ہو جائے گی۔اسلام کو بدعات سے پاک کرنے کا کام مہدی معہود کے سپر د ہوگا۔وہ اللہ تعالیٰ سے جو معلم حقیقی ہے، اس سے قرآن کریم کی تفسیر سیکھ کر اور سنت نبوی کے حالات معلوم کر کے دنیا میں قرآن کی تعلیم کو رائج کرے گا اور سنت رسول کی طرف نوع انسانی کو بلائے گا۔صرف یہ خبر نہیں دی گئی تھی کہ وہ ایسا کرے گا بلکہ اس خبر کے ساتھ یہ بشارت بھی دی گئی تھی کہ وہ اپنی اس مہم میں اور اس جہاد میں کامیاب بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ اسے ایسے نیک بندوں کی جماعت عطا کرے گا جو خدا کی راہ میں قربانیاں دیں گے۔اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت دلوں میں گاڑنے کے لئے اور اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لئے وہ اپنا سب کچھ قربان کر دیں گے۔اللہ تعالیٰ ان کو انفرادی طور پر بھی انعامات دے گا لیکن ایسے شخص کا جو اصل انعام ہے وہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اسلام کا غلبہ دیکھ لے۔اُسے یہ انعام بھی ملے گا۔پس ہمارے دُکھ خواہ کسی رنگ میں ہوں، وہ ہماری مسکراہٹیں اور ہماری مسرتیں اور ہماری بشاشتیں ہم سے نہیں چھین سکتے۔قضاء و قدر آتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائشیں آتی ہیں اور ابتلا آتے ہیں تو بسا اوقات سوکھی ٹہنیاں کاٹ دی جاتی ہیں مگر جن درختوں کی ٹہنیاں ہری ہوتی ہیں ان پر ایک نیا حسن اور ایک نیا جو بن نظر آتا ہے۔جو لوگ درختوں کو غور سے دیکھنے والے ہیں کیا وہ دیکھتے نہیں کہ کس طرح آندھیاں درختوں کے نیچے سوکھی ہوئی ٹہنیاں بھی چھوڑ جاتی ہیں اور پھر جب بارشیں ہوتی ہیں تو درختوں کا بالکل رنگ ہی بدل جاتا ہے۔درختوں کا جو رنگ ٹو کے زمانہ میں ہوتا ہے کیا تم نے برسات کے زمانہ میں کبھی وہ رنگ دیکھا ہے؟ دراصل لو کا زمانہ اور آندھیوں کا زمانہ سُوکھی ٹہنیوں کے گرانے کا زمانہ ہے اور برسات کا زمانہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نتیجہ میں درختوں میں ایک نیا حسن اور ایک نیا جوبن پیدا کرنے کا زمانہ ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ہے جسے ہم ہر سال مشاہدہ کرتے ہیں درخت ایک ایسی چیز ہے جس میں روح نہیں ہوتی مگر ٹو کے زمانہ میں ، طوفان کے زمانہ میں جب سوکھی ٹہنیاں ٹوٹ گئی ہوتی ہیں اس وقت بھی