خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 659
خطبات ناصر جلد پنجم خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۴ء قربانیاں ضرور لے گا کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس وقت تک اُس کی یہی سنت چلی آ رہی ہے۔اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں جو انبیاء آئے ہیں وہ گنے تو کسی نے نہیں تعداد میں فرق ہے لیکن کہتے ہیں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے ہیں۔تم کوئی ایک پیغمبر بتاؤ جس کے زمانہ میں اس کے ماننے والوں نے قربانی نہ دی ہو۔گالیاں نہ کھائی ہوں مصیبتیں نہ جھیلی ہوں اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتوں کو نہ بھیجا ہو اور اُن کو کامیاب نہ کیا ہو۔ہر ایک نبی کے ماننے والوں نے اپنے حالات کے مطابق اپنے کام کے مطابق اور اپنے کام کی وسعت کے مطابق قربانی دی ہے۔جو نبی ایک چھوٹے سے شہر میں آیا اس کے لئے چند آدمیوں نے قربانی دی۔جو نبی ایک خاص علاقے کے لئے آیا اس علاقے نے اس کے لئے قربانیاں دیں۔جو نبی ایک خاص قوم کی اصلاح کے لئے آیا۔اُس قوم نے اس کے لئے قربانیاں دیں بغیر قربانیاں دیئے اُن کو خدا تعالیٰ کی نعمتیں اور رحمتیں نہیں ملیں مگر وہ رَحْمَةُ لِلعلمین ہو کر نوع انسانی کی طرف آیا، نوع انسانی اس کے لئے اس وقت تک قربانیاں دیتی چلی آرہی ہے اس لئے تمہیں بھی قربانیاں دینی پڑیں گی اور مجھے بھی قربانیاں دینی پڑیں گی اور بشاشت کے ساتھ ہنستے کھیلتے ہوئے قربانیاں دینی پڑیں گی۔ہم نے اسلامی تاریخ میں یہ کہیں نہیں پڑھا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ مصیبت کے دنوں میں رویا کرتے تھے اور نہ ہی ہماری تاریخ نے یہ ریکارڈ کیا ہے کہ جس وقت اندرونی حملوں کی وجہ سے حضرت امام ابو حنیفہ اور حضرت امام مالک جیسے بزرگ انفرادی طور پر بڑے سخت ابتلا اور امتحان میں ڈالے گئے تو اس وقت اُن کے چہرے پژمردہ ہو گئے ہوں۔جو شخص ایک بار اللہ تعالیٰ کے حسن کو دیکھ لیتا ہے وہ تو اس میں مست ہو جاتا ہے۔زمانہ کی تکلیفوں کی وجہ سے اس کے چہرے پر پژمردگی کے آثار نمودار نہیں ہوا کرتے۔چنانچہ اب بھی ایسا ہی ہوا۔میں نے ایک جگہ دو بچے بھجوائے تھے۔راستے میں سات میل تک لوگ ان کو مارتے چلے گئے اور ہنتے چلے گئے۔ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ جب ہم اُن کے مکے اور چپیڑیں کھا کر بھی مسکراتے تھے تو اُن کو اور غصہ چڑھتا تھا کہ پتہ نہیں یہ کیا قوم ہے۔ہم یہی قوم ہیں۔ہم خدا کی راہ میں تکلیفیں بھی اُٹھا ئیں گے اور دنیا ہمیں مسکراتے ہوئے اور قہقہے لگاتے ہوئے بھی دیکھے گی۔جس