خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 572
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۲ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء دی گئی ہے کہیں ہم اس کو بھول نہ جائیں۔ہمارا کام غصہ کرنا نہیں۔ہمارا کام غصہ پینا ہے ہمارا کام انتقام اور بدلہ لینا نہیں ہمارا کام معاف کرنا ہے ہمارا کام دعائیں کرنا ہے اُن کے لئے جو ہمارے اشتد ترین مخالف ہیں کیونکہ وہ پہچانتے نہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہیں اور اُس کے پیار کی راہوں سے وہ بھٹک گئے ہیں یہ ہمارا کام ہے اور جس وقت پھر خدا تعالیٰ ایک لمبے سلسلہ کے بعد جو صفت عزیز کے جلوؤں کا سلسلہ ہے یعنی کبھی کہیں تھوڑی گرفت ہوتی ہے اور کسی اور مقام پر اور کسی اور زمانہ میں زیادہ سخت گرفت ہوتی ہے ان سب کا نچوڑ یہ ہے کہ دو چار فیصد لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن باقیوں کے لئے ہدایت کا سامان پیدا ہو جاتا ہے آخر خلافت راشدہ میں اسلامی مہم میں کتنی وسعت پیدا ہو گئی تھی اور جہاں جہاں اسلام کا اثر ونفوذ پھیلا کسری کے ساتھ لڑائیوں میں ایران کے باشندوں میں سے ایسا تو نہیں ہوا کہ نوے فیصد لوگ مارے گئے ہوں یہ بھی نہیں کہ ان میں سے پانچ فیصد ہلاک ہوئے ہوں۔میرا خیال ہے کہ شاید ایک فیصد بھی ہلاک نہ ہوئے ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر اپنی گرفت کے جلوے اپنے عزیز ہونے کے جلوے ظاہر کئے اور ان کے لئے ہدایت کا سامان پیدا کر دیا اور ان کی بھاری اکثریت مسلمان ہوئی۔پھر ان لوگوں نے بڑے اخلاص کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے اپنی قوتوں اور استعدادوں کو اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا۔سپین کے فاتحین موسیٰ اور طارق بھی جہاں تک مجھے یاد ہے ایران سے وہاں گئے ہوئے تھے اور اُن لڑائیوں میں غلام بن کر آئے تھے وہ جنگی قیدی تھے پھر اسلام کے اندر ان کی تربیت ہوئی پھر ان کی جتنی ذہنی طاقتیں اور استعداد میں تھیں وہ اسلام کے لئے وقف ہو گئیں اور اپنا کچھ باقی نہ رہا اور انہوں نے اطاعت امام کا اعلی نمونہ قائم کیا حالانکہ ان کے زمانہ میں تو خلافت نہیں تھی ملوکیت آگئی تھی لیکن پھر بھی اسلام کے نظام کی اطاعت کے لئے انہوں نے اپنی غلط فہمی کے نتیجہ میں جو سزائیں دی تھیں اُس سلسلہ میں انہوں نے اپنی جانیں تک قربان کر دیں لیکن اسلام سے جو انہیں پیار اور محبت تھی اس پر انہوں نے حرف نہیں آنے دیا۔بہر حال یہ دوسری باتیں ہیں مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احباب جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف اس قسم کا غصہ نہ آئے کہ جس کی اجازت ہمیں