خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 573
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۳ خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء ہمارے رب نے نہیں دی۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے میری خاطر تم ظلم سہو میں آسمانی فرشتوں کو بھیجوں گا تا کہ تمہاری حفاظت کریں۔اب ظاہر ہے اور موٹی عقل کا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی دوسرافر دحملہ آور ہو اور جس پر حملہ کیا گیا ہے اس کو اپنے دفاع کے لئے ان دو چار ہتھیاروں میں سے جو میٹر ہیں کسی ایک ہتھیار کے منتخب کرنے کا موقع ہو تو عقل کہتی ہے کہ اُس کے نزدیک جو سب سے زیادہ مضبوط اور مؤثر ہتھیار ہو گا وہ اسے منتخب کرے گا تو اگر ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مومن کی عقل کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اگر دنیا کے سارے دلائل بھی ہمارے پاس ہوں اور ان کے ساتھ ہم اپنے مخالف کا مقابلہ کریں تو ہماری اس تدبیر میں وہ قوت اور طاقت نہیں جو ان فرشتوں کی تدبیر میں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے بھیجے اور کہے کہ میرے بندوں کی حفاظت کرو اور اُس کی خاطر مخالفین سے لڑو۔پس جب یہ بات ہے تو ہماری عقل کہتی ہے کہ ہمیں کمزور ہتھیار سے اپنے مخالف کا مقابلہ نہیں کرنا چاہیے۔جب ہمیں ایک مضبوط ہتھیار بھی میسر آ سکتا ہے اور آرہا ہے تو ہمارے خدا نے ہمیں یہ کہا کہ تمہارا کام ہے دعائیں کرنا اور میرا کام ہے (۱) تم سے قربانیاں لینا تا کہ تم میرے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن جاؤ اور (۲) تمہاری اجتماعی زندگی کی حفاظت کرنا۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور اس کے بعد ہمیں اپنے غصے نہیں نکالنے چاہئیں۔تمہارا کام ہے دعائیں کرو۔گالیاں سُن کر دعا دو پا کے دُکھ آرام دو جہاں کہیں تمہیں کوئی تکلیف دینے والا ہے وہاں خودسوچو کہ کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ ہم اس کی کسی تکلیف کو دور کر کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننے والے ہوں۔اب یہاں بھی ہماری بڑی مخالفت ہوتی رہتی ہے لیکن اجتماعی طور پر احمدیوں کے دلوں کی کیفیت یہ ہے کہ ہمیں ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ کہیں ہمیں کوئی ایسا انسانی دُکھ ملے جس کو ہم دُور کر سکیں تو اس کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔اب اخبار میں ایک دن یہ خبر آئی کہ دریائے سندھ نے اپنے بہاؤ کا رُخ موڑا ہے اور پچاس گاؤں اُس کی زد میں آگئے ہیں اور لوگ بڑی تکلیف میں ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں میں ایک مثال دے رہا ہوں ہماری کیفیت یہی رہنی چاہیے۔اسی میں برکت ہے) میں نے