خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 571
خطبات ناصر جلد پنجم ۵۷۱ خطبہ جمعہ ۲۴ رمئی ۱۹۷۴ء کی یا نہیں۔دوسرے دنیا کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ دیکھو میرے بندے میری خاطر دنیا کا ہر ظلم سہنے کے لئے تیار ہیں لیکن مجھ سے بے وفائی کرنے کے لئے تیار نہیں۔خدا تعالیٰ اپنے پیاروں کا یہ نظارہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب عذاب کی شکل میں اس کا حکم نازل ہوتا ہے تو اُس وقت مومن بھی اور کا فر بھی اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک نہیں کہتے اور اُس کے مامورین اور اُس کے انبیاء کو جھٹلاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مختلف پیراؤں میں یہ مضمون قرآن کریم میں بیان کیا اور ہمارے سامنے رکھا ہے۔ماننے والوں کو خدا نے حکم دیا ہے کہ جلدی نہ کرنا اور جو تمہیں دُکھ پہنچانے والے تم پر ظلم کرنے والے تمہیں ہلاک کرنے کی تدابیر کرنے والے تمہیں بے عزت کرنے والے تمہیں حقیر سمجھنے والے ہیں اُن کے لئے دعائیں کرو۔اُن کے لئے یہ دعا کرو کہ وہ عظیم نعمت جو اللہ تعالیٰ کے پیار کی شکل میں تم نے دیکھی اور اس سے مخالف محروم رہے اللہ تعالیٰ اُن کے لئے بھی یہ سامان پیدا کرے۔ہماری جماعت اس وقت مہدی اور مسیح علیہ السلام کی جماعت ہے اور وہ احمدی جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمیں دُکھ نہیں دیئے جائیں گے ہم پر مصیبتیں نازل نہیں کی جائیں گی ، ہماری ہلاکت کے سامان نہیں کئے جائیں گے ہمیں ذلیل کرنے کوششیں نہیں کی جائیں گی اور آرام (کے ) ساتھ ہم آخری غلبہ کو حاصل کر لیں گے وہ غلطی خوردہ ہے اُس نے اُس سنت کو نہیں پہنچا نا جو آدم سے لے کر آج تک انسان نے خدا تعالیٰ کی سنت پائی۔ہمارا کام ہے دعائیں کرنا۔اللہ تعالیٰ کا یہ کام ہے کہ جس وقت وہ مناسب سمجھے اُس وقت وہ اپنے عزیز ہونے کا اپنے قہار ہونے کا جلوہ دکھائے اور کچھ کو ہلاک کر دے اور بہتوں کی ہدایت کے سامان پیدا کر دے۔دیکھو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ابھی میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے جو مخالف تھے اُن میں کتنے فی صد خدا تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بنے ؟ اور مارے گئے؟ بہت کم۔باقیوں کے لئے وہ عذاب جو بار بار مختلف شکلوں میں آتے تھے وہ ان کے لئے عبرت کا موجب بنے اور ہدایت کا ذریعہ بن گئے۔پس ہمارا کام اپنے لئے یہ دعا کرنا ہے کہ جو ہمیں دوسروں کے لئے دعائیں کرنے کی تعلیم