خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 256

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۶ خطبه جمعه ۱۰ را گست ۱۹۷۳ء جس میں کوئی کمزوری نفس نہیں پائی جاتی۔رَبُّ العلمين سب سے پہلی اور بنیادی اور اہم صفت ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا۔چونکہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے متصف ہونے کا حکم ہے اس لئے پہلا مطالبہ جو انسان سے کیا گیاوہ یہ ہے کہ رب العلمین کا پر تو اور عکس ہماری زندگی میں آنا چاہیے۔اس صفت کے دو پہلو ہیں ایک خلق کا اور ایک ارتقائی ربوبیت کا۔اس صفت سے تعلق رکھنے والا ایک بڑا نمایاں پہلو اس کا انقلابی فعل ہے اور دوسرا نمایاں پہلو اس کا ارتقائی فعل ہے سائنس یا فلسفہ کی تفصیل میں جانے کے بغیر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جب جمادات معرض وجود میں آئیں تو یہ خدا تعالیٰ کا بڑا انقلابی فعل تھا۔اس کے بعد ایک اور عظیم خلق پیدا ہوئی اور صفت خلق کا ظہور ہوا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کا نباتات کو پیدا کرنا تھا۔جمادات اور نباتات میں جو اصولی فرق ہے۔وہ ارتقائی فرق نہیں بلکہ انقلابی فرق ہے۔چنانچہ ایک مشہور فلاسفر نے بھی ان فرقوں کو انقلابی فرق قرار دیا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کا ایک بڑا عظیم انقلابی فعل نباتات کے بعد زندگی کا دوسرا معجزہ حیوانات کا ނ پیدا کرنا ہے۔نباتات کی پیدائش کے بعد یہ ایک نیا انقلابی فعل ہے۔پھر حیوانی زندگی۔صاحب عقل و شعور زندگی کی پیدائش بھی ایک بہت بڑا اور زبردست اور انقلابی فعل ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوے ہمیں بتاتے ہیں کہ کوئی انقلاب اس عالم میں کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ حقیقی اور مناسب حال ارتقائی منازل میں سے گزر کر اپنے کمال کو نہ پہنچے۔اس وقت جو چند انقلاب آئے ان کا ذکر ضمنی طور پر کر دیتا ہوں مثلاً سرمایہ دارانہ انقلاب جب انسان کے اندر ایک نیا شعور پیدا ہوا اس کے پھیلاؤ نے مختلف راہیں اختیار کیں۔مثلاً ایک وقت میں صنعتی انقلاب، پھر زرعی انقلاب معرض وجود میں آیا۔ان سب کی جہت ایک ہی طرف تھی۔اور وہ انسان کی مادی ترقی تھی۔لیکن اس انقلاب کے بعد جن ارتقائی منازل میں سے اسے گزرنا چاہیے تھا یہ انقلاب ان منازل میں سے نہ گزرا۔اس کے بعد اس کے مقابلے میں اشترا کی انقلاب کھڑا ہوا۔اسلام کی اصطلاح میں ہم اس کو ایک دنیوی انقلاب کہہ سکتے ہیں۔اس انقلاب نے دعوئی یہ کیا کہ ہم انسان کی بطور انسان