خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 255
خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۵ خطبه جمعه ۱۰ را گست ۱۹۷۳ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نوع انسانی کے لئے ایک عظیم انقلاب مقدر ہے خطبه جمعه فرمود ه ۱۰ را گست ۱۹۷۳ء بمقام مسجد فضل - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی صفات حسنہ کا مظہر بننے کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان کی زندگی دو حیثیتوں کی مالک ہے۔ایک اس کی انفرادی زندگی ہے اور ایک اس کی اجتماعی زندگی۔انسانی زندگی کے ہر دو پہلوؤں میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا جلوہ نظر آنا چاہیے اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات کا ذکر قرآن عظیم نے کیا ہے یعنی ان تمام صفات کا ذکر جن کا تعلق انسان سے اور اس عالمین سے ہے اور ہم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ ہم ان صفات کا رنگ اپنی زندگیوں پر چڑھائیں۔سورۂ فاتحہ میں چار بنیادی صفات باری تعالیٰ کا ذکر آیا ہے۔جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی اصل الاصول صفات کا نام دیا ہے۔ان صفات میں سے پہلی صفت ربوبیت کی صفت ہے۔عربی زبان میں ربوبیت کے معانی دو پہلو ر کھتے ہیں۔اول پیدا کرنا، دوسرے پیدائش کے بعد بتدریج ابتدائی مراحل میں سے گزار کر اس شخص یا قوم کی انفرادیت کو نقطۂ کمال تک پہنچانا۔اور فرمایا کہ اللہ رب العلمین ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بطور اسم ذات آیا ہے قرآنی اصطلاح میں اللہ اس ذات پاک کا نام ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور