خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 257 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 257

خطبات ناصر جلد پنجم ۲۵۷ خطبه جمعه ۱۰ را گست ۱۹۷۳ء بہبودی اور خیر خواہی کے لئے یہ انقلاب بر پا کر رہے ہیں۔اور آج ہمیں یہ نظر آ رہا ہے کہ آدھی سے زیادہ دنیا ان کے عزائم کی حصہ دار ہونے کی بجائے ان سے ڈر رہی ہے کہ کہیں وہ ہمیں ہلاک نہ کر دیں جس سے میں یہ نتیجہ نکالتا ہوں کہ اس اشترا کی انقلاب کو جن صحیح ارتقائی منازل میں سے گزرنا چاہیے تھا ان میں سے نہیں گزرا۔کیونکہ کوئی انقلاب صحیح ارتقائی منازل طے کئے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں اشترا کی انقلاب بھی ناکام ہو چکا ہے۔آدھی سے زیادہ دنیا کا ان سے ڈرنا اور خوف کھانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ انقلاب کامیاب نہیں ہوا۔ایک تیسرا انقلاب بڑا مختلف ہے اور جس کو میں اشترا کی نہیں بلکہ سوشلسٹ انقلاب کہتا ہوں چین کا انقلاب ہے۔یہ بھی دنیاوی انقلاب ہے لیکن خدا تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا ایک جلوہ اور پہلو ہے۔انسان نے غور وفکر کے بعد ایک چیز حاصل کی۔چین کا یہ انقلاب بڑے ابتدائی دور میں سے گزر رہا ہے اور اس وقت ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ انقلاب کامیاب ہوگا۔یا پہلے انقلابوں کی طرح بھٹک کر رہ جائے گا۔کئی سال ہوئے ٹیکسلا میں ایک Complex بنانے کی سکیم کے ضمن میں چینی ماہروں کی ایک ٹیم آئی تھی۔ایک جگہ جہاں Complex بنایا جا سکتا تھا ر بوہ کے قریب تھی۔اس وقت کے ضلعی افسروں کو ان کے قیام کے بارے میں مشکلات پیش آئیں تو انہوں نے ہمیں کہا کہ ہم ان کے قیام اور کھانے وغیرہ کا انتظام سنبھال لیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لنگر کے دروازے جس طرح پاکستانیوں کے لئے کھلے ہیں اسی طرح افریقہ، امریکہ، یورپ، روس اور دوسرے ممالک کے لوگوں کے لئے کھلے ہیں۔ہم نے ان لوگوں سے باتیں کیں۔میں نے اس وفد سے کہا کہ اس وقت چین بڑا صحیح چل رہا ہے اگر تم لوگوں نے دوسرے لوگوں کی طرح بنی نوع انسان کی خدمت کی بجائے نوع انسانی کا استحصال شروع کر دیا تو تمہارا ابھی وہی حال ہوگا جو پہلوں کا ہو چکا ہے یعنی ان انقلابات کی ابتدا بڑی عظیم تھی۔لیکن ان کے ارتقائی ادوار ترقی اور نقطہ کمال تک پہنچانے کی بجائے نقطہ زوال تک پہنچانے والے ثابت ہوئے۔میں نے خدام الاحمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے چار روحانی انقلابوں کا ذکر کیا تھا جن میں سے