خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 137
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۷ خطبه جمعه ۱٫۲۰ پریل ۱۹۷۳ء کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے سستی دکھائی ہے خدا کرے ان کی سستیاں دور ہو جا ئیں۔دوست یہ بھی دعا کریں کہ یہ کام جو شروع ہوا ہے اور بڑی برکتوں سے شروع ہوا ہے۔جس کے لئے ہزاروں آدمیوں نے گھنٹوں کام کر کے پریس کے تہ خانے کی کھدائی کی ہے اللہ تعالیٰ اس پریس کو جماعت کے لئے اور اسلام کے لئے اور بنی نوع انسان کے لئے با برکت کرے۔اس پریس کے قیام کا مقصد قرآن کریم کی عالمگیر اشاعت ہے۔خدا کرے کہ ہمارا یہ مقصد ہمارے تخیل اور تصور سے بڑھ کر پورا ہو۔خدا تعالیٰ اپنی حکمت کا ملہ سے جماعت احمدیہ کو قرآنِ کریم کے انوار ساری دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔تیسرے میں ایک اور دعا کی طرف بھی جماعت کو تو جہ دلانا چاہتا ہوں۔میر داؤ داحمد صاحب جو جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بھی ہیں اور کئی سالوں سے جلسہ سالانہ کے افسر اعلیٰ بھی ہیں اور ناظر خدمت درویشاں بھی ہیں ، وہ کچھ عرصہ سے بہت بیمار چلے آرہے ہیں کل شام تو حالت بہت تشویشناک ہوگئی تھی۔خود انہوں نے ہی کہا کہ مجھے سورہ یسین سناؤ۔چنانچہ سورہ یسین جو قرآن کریم کا بڑی برکتوں والا حصہ ہے وہ سنایا گیا۔سانس اکھڑا ہوا تھا جس طرح نمونیہ میں سینہ اور پھیپھڑے کی کیفیت ہوتی ہے اسی طرح کی کیفیت طاری تھی۔سانس مشکل سے آ رہا تھا۔بخار بڑا تیز تھا بہت تشویشناک حالت تھی۔ہم سارے گھر والے وہاں اکٹھے ہوئے ہوئے تھے اور بڑے فکرمند تھے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے تھے۔دراصل ایک مومن کی دعا یہی ہوتی ہے کہ اے خدا! میں تیرے فضلوں کی امید رکھتا ہوں اور کسی صورت اور کسی شکل میں تجھ سے مایوس نہیں ہوں۔چنانچہ میں نے یہ دعا کی کہ اے خدا! تجھے سب قدرتیں حاصل ہیں یہ تیرا فضل ہے کہ تو نے ہمارے دلوں میں یہ روشنی پیدا کی ہے کہ اس حالت میں بھی جو اپنے عزیز کی دیکھ رہے ہیں ہم تجھ سے مایوس نہیں ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ اگر تو چاہے تو جس کو دنیا آخری سانس کہتی ہے اس کے بعد بھی اس کو کئی سال تک سانس آتے رہیں۔ہم نے اپنی زندگیوں میں خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے ایسے کئی نظارے دیکھے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ شفا دینے والا ہے وہ حی وقیوم خدا ہے۔وہی انسان کو زندگی دیتا اور اس کو قائم بھی رکھتا ہے کیونکہ وہ ساری قوتوں اور طاقتوں کا مالک ہے۔