خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 136
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۶ خطبه جمعه ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء بجٹ سے جتنا آگے نکل سکیں نکلیں انفرادی حیثیت میں بھی اور اجتماعی طور پر بھی یعنی چھوٹی بڑی دیہاتی اور شہری جماعتوں کے لحاظ سے بھی۔باقی جماعت احمدیہ کی یہ جو اجتماعی زندگی ہے اس میں تو بہر حال آگے نکلنا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی توفیق سے کیونکہ اسی پر ہمارا تو گل۔اور وہی ہمارا سہارا ہے۔مالی امور کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے فرمایا۔ہے دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ احباب جماعت ربوہ نے بڑی ہمت کے ساتھ اور بڑی بشاشت کے ساتھ وقار عمل کے اس کام میں حصہ لیا ہے جو ان کے سپرد کیا گیا تھا۔مطبع کی کھدائی کا کام قریب قریباً ختم ہو گیا ہے۔چند آخری مراحل رہ گئے ہیں یعنی جہاں کہیں دیوار ٹیڑھی ہے یا آگے کو نکلی ہوئی ہے اس کی درستی کا کام رہ گیا ہے اور یہ بھی انشاء اللہ ایک دو دن میں مکمل ہو جائے گا۔یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے سرانجام پایا ہے اس لئے ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بھی کرتے ہیں اور شکر کے جذبات سے اپنے دلوں کو معمور بھی پاتے ہیں۔جہاں احباب نے اس کام میں بڑے شوق سے حصہ لیا ہے وہاں ایک کمزور پہلو بھی سامنے آیا ہے۔بعض افراد اور بعض محلے کام میں ست بھی رہے ہیں اور بہانوں کی تلاش میں بھی رہے ہیں جوسست تو ہوتا ہے مگر شرمندہ بھی ہوتا ہے وہ اس سے زیادہ بہتر ہوتا ہے جو سستی دکھاتا ہے اور پھر بہانے ڈھونڈتا ہے۔خدام الاحمدیہ کے صحت جسمانی کے منتظم کو چاہیے کہ وہ مجھے تفصیلی رپورٹ دیں اور ان لوگوں کی نشاندہی کریں جو اس کام میں ست اور بہانے کرتے رہے ہیں تا کہ میں ان کی اصلاح کی کوشش کروں۔یہ کام بڑا محنت طلب تھا۔احباب نے خدا کے فضل سے بڑی محنت کر کے اسے مکمل کیا ہے حالانکہ کچھ دنوں سے گرمی بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ہمارے چھوٹے چھوٹے بچوں (اطفال) نے اپنے علیحدہ بھی وقار عمل کئے اور بڑوں کے ساتھ مل کر بھی کئے اللہ تعالیٰ ان سب کو اسلام اور جماعت کا جن بنائے رکھے۔پھر جو بڑے ہیں خدام ہیں یا انصار ہیں ( بعض انصار بڑی ہمت سے کام کرنے والے ہیں) سب نے اس کام میں نہایت گرمجوشی سے حصہ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ سب