خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 138
خطبات ناصر جلد پنجم ۱۳۸ خطبه جمعه ۱٫۲۰ پریل ۱۹۷۳ء غرض جب بالکل مایوسی کی حالت طاری ہو گئی یہاں تک کہ وہ اپنی بیٹی کو نصیحت کرنے لگے کہ میں جا رہا ہوں تم یہ خیال رکھنا وہ خیال رکھنا باتیں کرتے کرتے (ان کی باتوں نے میری طبیعت پر اثر ڈالا کہ کچھ ) ان کے اندر بھی تبدیلی آگئی۔چنانچہ یہ کہہ کر کہ جامعہ احمدیہ کے استادوں اور طلباء کو میر اسلام اور پیار ہو اور کہنا کہ میں ان کا خیال رکھتا رہا ہوں۔اگر مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں۔چندلحوں کے بعد کہنے لگے اگر میں آج مرجاؤں تو ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا۔اگر زندہ رہوں تو میں ان کی خدمت کرنے کی اور کوشش کروں گا۔اس وقت میری طبیعت پر یہ اثر تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے کوئی ایسی تبدیلی پیدا کر دی ہے جس سے حالت بہتر ہونے کی امید ہے ویسے غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ کسی کو کتنی زندگی دیتا ہے چند گھنٹوں کی چند دنوں کی یا چند برسوں کی یہ تو وہی جانتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا ہمارے بیٹھے بیٹھے ان کا بخار کم ہو گیا۔طبیعت میں سکون پیدا ہو گیا۔آج صبح بھی خدا کے فضل سے وہ کیفیت نہیں تھی جو کل شام تھی۔پہلے کی نسبت بہت بڑا فرق ہے۔طبیعت میں سکون ہے۔سانس کی تکلیف نہیں۔پھیپھڑوں میں تکلیف نہیں تا ہم ان عوارض کی اصل وجہ ایک تو خون کے دباؤ کا بہت بڑھ جاتا ہے دوسرا بلڈ یوریا ( Blood Urea) جسے میر صاحب کی طبیعت کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ پچاس تک معمول کے مطابق ہونا چاہیے تھا وہ ۲۰۰ تک پہنچ گیا۔کبھی اس سے کم اور کبھی زیادہ ہوتارہا ہے۔بڑھے ہوئے یوریا کی وجہ سے گر دے بہت مجروح ہو چکے ہیں۔بہت تھوڑا کام کر رہے ہیں۔کل پیشاب بالکل بند ہو گیا تھا جس سے ڈاکٹروں کو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ گردوں نے کام کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے اگر گردے کام نہ کریں تو وہ زہر جو جسم سے گردوں کے ذریعہ پیشاب کے راستے خارج ہوتے ہیں وہ خارج نہیں ہو سکتے جب وہ زہر جسم کے اندر رہتے ہیں تو بڑی تشویشناک حالت ہو جاتی ہے۔اگر چہ یہ بیمار یاں تو ابھی دور نہیں ہوئیں۔یوریا کی اور اس کے نتیجہ میں گردہ کی تکلیف اور خون کے دباؤ میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔تاہم خدا تعالیٰ کے آگے تو کوئی چیز انہونی نہیں ہے، وہ سب قدرتوں کا مالک ہے اس واسطے جو حقیقتا آخری سانس ہوتا ہے یعنی جس کے بعد انسان دوسرا سانس نہیں