خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 89
خطبات ناصر جلد پنجم ۸۹ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء میں کوئی فرق نہ ہو اور چشم تصور میں تمام انبیاء ایک میدان میں کھڑے ہوں تو مشرق کی طرف سے دیکھیں گے تو شمال والا آخری ہو گا۔جنوب کی طرف سے دیکھیں گے تو جو نبی غربی کونے میں ہے وہ آخری نبی ہوگا۔پس ایک تو یہ نسبتی طور پر آخری ہے۔اس میں کسی فضیلت کا ذکر نہیں بلکہ یہ ایک نسبتی چیز ہے جس زاویہ سے آپ دیکھیں گے مقابلہ کی انتہا آخری بن جاتی ہے۔پس فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ بھی ایک بنیادی حقیقت ہے اور لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رسلہ بھی اپنی جگہ ایک بنیادی حقیقت ہے دراصل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیدا کرنے والے رب کے حضور جو منفرد مقام حاصل تھا اس کے اظہار کے لئے آپ کو خاتم النبیین کہا گیا بے خَاتَمَ النَّبيِّين یعنی مقام محمدیت قرب اتم کا مقام ہے۔بالفاظ دیگر آپ صفات باری کے مظہر اتم تھے۔یہ شرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے دوسرا کوئی نبی اس مقام تک پہنچ نہیں سکا۔کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ رسالت میں ایک لاکھ بیس ہزار رسول شامل ہیں۔ان میں ہم نے کوئی فرق نہیں کرنا لیکن مقام محمدیت کے لحاظ سے آپ کو جو منفرد مقام حاصل ہے وہ صفات باری کے مظہر اتم ہونے کا مقام ہے اس مقام کو انسانوں کے مقابل میں انسان کامل کہتے ہیں اور قرب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے قریب تر دوسرا کوئی شخص خدا کے پیار کے حصول میں آپ سے زیادہ اور قریب تر ہوا نہ ہوسکتا ہے غرض اس مقامِ محمدیت کو بیان کرنے کے لئے مختلف اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔پس سورۃ احزاب کی آیت ۴۱ میں ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول ہیں اور اس جہت سے رسول رسول میں فرق کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور دوسرے آپ خاتم النبیین ہیں اس جہت سے آپ بے مثل و مانند ہیں اور کوئی رسول آپ کے ہم پلہ نہیں۔اس حیثیت میں کسی کو آپ کے ساتھ منسلک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔اس مقام محمدیت کے لحاظ سے آپ تمام رسولوں میں منفر دو ممتاز ہیں۔پھر سورہ احزاب کی اس آیہ کریمہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (الاحزاب : ۴۱) کہ ہر چیز کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اس بیان کا ایک گہرا