خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 836

خطباتِ ناصر (جلد5 ۔ 1973ء، 1974ء) — Page 90

خطبات ناصر جلد پنجم ۹۰ خطبه جمعه ۳۰ مارچ ۱۹۷۳ء اور ضروری تعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام ختم نبوت یعنی مقام محمدیت کے ساتھ ہے ورنہ بظاہر یہ کہ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر کسی مرد کے باپ نہیں لیکن (1) اللہ کے رسول ہیں اور (۲) خاتم النبیین ہیں اور پھر یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کو ہر ایک چیز کا علم ہے اس میں کوئی حکمت ہونی چاہیے۔اس میں کوئی فلسفہ ہونا چاہیے؟ اس میں کسی گہرے اور عمیق مضمون کا بیان ہونا چاہیے؟ چنانچہ میرے نزدیک علاوہ اور معانی کے ایک معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں فرمایا کہ خاتم النبیین کے خود معنے نہ کرناختم نبوت کے معنے تمہارا پیدا کرنے والا رب تمہیں بتائے گا۔اگر خود معنے کرو گے تو غلطی کھاؤ گے اس لئے خود قرآن کریم نے اس کے معنی کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ (البقرة : ۲۵۴) جس کے ایک معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرشِ ربّ کریم تک رفعت روحانی بخشی۔قرآنِ کریم کی ہر آیت اور ہر فقرے اور فقرے کے ہر لفظ کے بہت سے بطون ہوتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے ایک معنے یہ کئے ہیں کہ ایک وہ رسول جو ارفع ہے اپنے درجات کے لحاظ سے اور منفرد ہے رفعت روحانی میں کوئی رسول اس مقام میں آپ کا شریک نہیں ہے۔قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم:۵) که تَخَلُقُ بِأَخْلَاقِ اللَّهِ کے مقام میں کوئی دوسرا انسان تو کیا کوئی دوسرا نبی بھی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ کوئی انسان آپ کے بلند مقام کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔یہ آپ کا مقام محمدیت ہے جس میں آپ تمام رسولوں میں افضل ہیں۔قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ آپ کا کلام خدا کا کلام اور آپ کا ظہور خدا کا ظہور اور آپ کا آنا خدا کا آنا ہے ( پہلے آسمانی نوشتوں نے بھی اسی رنگ میں اس مفہوم کو بیان کیا ہے ) فرما یا: - جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (بنی اسراءیل : ۸۲) اس آیہ کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ حق کے لفظ سے اللہ تعالیٰ قرآن عظیم کی آخری اور کامل شریعت اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہرسہ مراد ہیں۔ان پر حق کا لفظ حقیقی طور پر چسپاں ہوسکتا ہے۔قرآن کریم نے مقام محمدیت یعنی مذکورہ منفرد مقام کو مختلف طریقوں اور مختلف زاویوں سے